Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
SEK300.00 SEK346.00

Pay in 4 interest-free payments of $75.00 Learn more

Bukhara - بخارا yadgar e zaman hain log قیسی رامپوری (پیدائش: 20 جون

SKU: 99196316499
4.2

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 26 - Aug 31

Description

قیسی رامپوری (پیدائش: 20 جون 1908ء - وفات: 10 فروری 1974ء)، اُردو زبان کے معروف مصنف، ناول نگار، ڈراما نویس، مترجم اور افسانہ نگار تھے۔ وہ صاحبِ اسلوب ادیب، تذکرہ نگار اور سفرنامہ نگار ملا واحدی دہلوی کے داماد تھے۔ قیسی کی جائے پیدائش رامپور ٹھہری۔ پہلے قیسی اجمیری کے نام سے بھی لکھتے رہے۔ اصل نام حامد الدین خلیل الزماں خان، والد بزرگوار کا نام محمد زمان خان، سلسلۂ نسب چونتیسویں پشت میں حضرت قیس عبدالرشید سے جاکر ملتا تھا جن کا مزار کابل میں ہے۔ پردادا کابل سے نوشہرہ آکر آباد ہوگئے تھے۔ والد نے رختِ سفر باندھا اور ریاست کوٹہ آکر آباد ہوگئے۔ اپنے قیسی ہونے کے بارے میں ایک جگہ لکھتے ہیں، ’’قیسی نہ تو میرا تخلص ہے نہ جناب قیس عامری کی لیلیٰ پرست ذات سے میرا کوئی تعلق ہے۔‘‘ فکرِ معاش سے آزاد ہوکر ادیب فاضل کا امتحان دیا، اس کے بعد منشی فاضل کا اور آخر میں انٹر کا۔ ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز اجمیر سے ہوا۔ رسالہ کیف میں پہلا افسانہ ’’ایثارِ مجسم‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ وہاں ان کی ملاقات رفیعی اجمیری سے ہوئی۔ کچھ عرصہ خواجہ حسن نظامی کے ہاں دہلی میں بھی قیام کیا۔ ادب میں انھوں نے ناول نگاری کے حوالے سے اپنی الگ پہچان بنائی۔ معاشرتی، سماجی اور تاریخی موضوعات پر لاتعداد ناول تحریر کیے جس کا سلسلہ تقسیمِ ہند کے بعد ان کی وفات تک جاری رہا۔ ان کے ناولوں کی تعداد 100 سے زائد ہے جن میں رضیہ سلطانہ، چاند بی بی، ٹیپو شہید، آخری فیصلہ، خیانت، نکہت، اچھے دن، عمو، انجم، اپاہج، برہنہ، بے آبرو، چوراہا، دل کی آواز، فرزانہ، حُور، ابلیس، اجالا، تیسرا راستہ، فردوس، کلیم وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔ تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کے کچھ ادبی جرائد کی ادارت بھی کی۔ ایک تخلیق کار، مترجم اور ادیب کے طور پر قیسی نے بھرپور زندگی گزاری۔ انھوں نے اپنی تخلیقی قوت، زورِتخیل، فنی ہنرمندی اور اندازِ بیان کی سادگی و جاذبیت کے ذریعے بیسویں صدی کی وسطی دہائیوں میں اردو کے افسانوی ادب کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے تاریخ کے موضوع پر ایک کتاب ’’دوسری جنگِ عظیم کے ہولناک واقعات‘‘ بھی تحریر کی۔ ناولوں کے تراجم بھی کیے، جن میں وِلا کیدر کے ناول ’’My antonia‘‘ کا ترجمہ ’’ویران ہے دل‘‘ خاصا مقبول ہوا۔ تھامس ہارڈی کے مشہور ناول ’’Jude the obscure‘‘ کا ترجمہ کیا تو اس کا عنوان سیماب اکبری آبادی نے ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘ تجویز کیا۔ پاکستان آنے کے بعد بھی قیسی کا قلم نہیں رکا بلکہ بےشمار ناول لکھتے رہے، وہ اپنے وقت میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناول نگار مانے جاتے تھے۔ قیسی رام پوری 10 فروری 1974ء کو بعارضہ قلب کراچی میں انتقال کر گئے۔

Pages: 520

غلام باری (1907ء - 1949ء)، باری علیگ کے قلمی نام سے شہرت، اُردو کےاہم ادیب اور مؤرخ، کئی زبانوں کے عالم، برطانوی ہند میں ضلع گورداس پُور کی تحصیل کلانور میں پیدا ہوئے۔ تقسیم سے قبل ہی ان کا گھرانا لائل پور میں آ کر آباد ہو گیا جہاں انھوں نے کالج تک تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں علی گڑھ یونیورسٹی چلے آئے اور ان کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں۔ برطانوی سامراج کی سختیوں سے دلبرداشتہ باری علیگ نے گھر والوں کی مخالفت کے باوجود سرکاری جاب کے لیے درخواست نہ دی اور چوری چھپے لاہور چلے آئے اورایک اخبار میں باری علیگ کے قلمی نام سے کام کرنا شروع کیا، تاہم حکومت مخالف مضامین کے باعث اخبار مالکان نے جلد ہی نوکری سے نکال دیا۔ شادی بھی انھیں کسی ایک جاب پر قانع نہ کرسکی اور وہ لاہور، امرتسر ، رنگون کے مختلف اخبارات کے لیے کام کرتے رہے۔ کمیونزم کو عروج ہوا تو اس طرف متوجہ ہوگئے کیونکہ کمیونزم انھیں اپنے امپیریلزم مخالف خیالات سے ہم آہنگ محسوس ہوتا تھا۔ برطانوی حکومت کے دَور میں ہندوستان کی جتنی بھی تاریخیں لکھی گئیں وہ انگریزوں کو ہند میں ترقی و خوشحالی کا علمبردار ٹھہراتی تھیں۔ باری علیگ نے اس نظریے کی مخالفت کی اورحقائق کی روشنی میں برطانوی ہند کی صحیح تاریخ لکھنے کی سعی کی۔ انھوں نے تاریخ پر 13 کتب لکھیں جن میں ’’کمپنی کی حکومت‘‘، ’’اسلامی تاریخ و تہذیب‘‘ ، ’’ تاریخ کیا ہے‘‘، ’’تاریخ کا مطالعہ‘‘، ’’انقلابِ فرانس‘‘ زیادہ مشہور ہوئیں۔ 1945ء میں ’’کمپنی کی حکومت‘‘ کا تیسرا ایڈیشن شائع ہونے لگا تو نہایت اہم ترامیم اور اضافے کیے گئے۔ یہ جدید ایڈیشن ’’بک کارنر‘‘ بہت اہتمام کے ساتھ شائع کر چکا ہے۔ باری علیگ عالمی تاریخ کے طویل مطالعہ کے بعد ’’تاریخ و تہذیب ‘‘ کے زیر عنوان ہردور کی عالمی تاریخ و تہذیب کا جامع تنقیدی جائزہ پیش کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے اور بہت سا کام مکمل کر لیا تھا، مگر 1949ء میں ان کی بے وقت موت سے نہ صرف یہ منصوبہ پایۂ تکمیل کو نہ پہنچ سکا، بلکہ مکمل شدہ کام کا بہت سا حصہ بھی ضائع ہو گیا۔ مسودے کا درمیانی حصہ بعنوان ’’اسلامی تاریخ و تہذیب‘‘ کسی نہ کسی طرح محفوظ رہا جو پہلی مرتبہ 1970ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اس مختصر سی کتاب کے مطالعہ سے تاریخِ عالم کے حیرت انگیز اور اہم ترین باب کو زیادہ صحیح طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ باری علیگ نے اپنے دور کے کئی لکھنے والوں کی سوچ کو متاثر کیا۔ سعادت حسن منٹو، باری علیگ کو اپنا رہنما اور استاد کہتے تھے۔ باری علیگ کی کتابوںنے بعد ازاں ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 42سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پائی۔ فیصل آباد میں مدفون ہیں۔ 10دسمبر1999ء میں باری علیگ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کی 50ویں برسی کے موقع پر پاکستان پوسٹ نے ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا ۔

اجنبی مکین

Translated By Muhammad Umer Memon

Bukhara - بخارا yadgar e zaman hain log قیسی رامپوری (پیدائش: 20 جونPages: 311 Category: Novels

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products