Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD200.00 USD236.00

Pay in 4 interest-free payments of $50.00 Learn more

Water shehar by misal مدتوں بعد اُردو میں ایک

SKU: 98342152148
4.6

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 23 - Aug 28

Description

مدتوں بعد اُردو میں ایک ایسا ناول آیا ہے جس نے ہند و پاک کی ادبی فضا میں ہلچل مچا دی ہے۔ کیا اس کا مقابلہ اس ہلچل سے کیا جائے جو ’’امرائو جان ادا‘‘ نے اپنے وقت میں پیدا کی تھی؟ اور یہ ناول ایک ایسے شخص کے قلم سے ہے جسے اوّل اوّل ہم نقاد اور محقق کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے بطور ناول نگار خود کو منکشف کیا ہے اور محقق فاروقی یہاں پر ناول نگار فاروقی کو پوری پوری کمک پہنچا رہا ہے۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ تحقیق و تنقید اور تخلیق کا کوئی ساتھ نہیں۔ لیکن زیرِ نظر ناول کو اس بات کی، جسے قاعدئہ کلی کے طور پر دیکھا گیا ہے، استثنائی صورت سمجھنا چاہیے۔ یہاں ہم تاریخ کو تخلیقی طور پر فکشن کے رُوپ میں ڈھلتے ہوئے دیکھتے ہیں لہٰذا ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کچھ الگ طرح کا ناول ہے۔ ہم اسے زوال آمادہ مغلیہ سلطنت کے آخری برسوں کی دستاویز کہہ سکتے ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی کو جزئیات پر مکمل مہارت ہے۔ انھوں نے وزیر خانم کی زندگی کو اس درجہ لطافت، نزاکت اور تمام باریک جزئیات کے ساتھ پیش کیا ہے کہ ہمارے سامنے ایک پوری تہذیب، جسے ہند مسلم تہذیب کہیے اور اس کے آخری دنوں میں اس کی چمک دمک اور برگ وبار کا پورا نقشہ آجاتا ہے

Pages: 444

The Economy of Modern Sindh delves into the different aspects of Sindh’s economy—from geography

Nayyar Hayat Qasmi

کرشن چندر کی فن پر دسترس اور عصری زندگی کی سُوجھ بُوجھ ایسی پکّی اور سچّی ہے کہ ان کی زُود نویسی کے باوجود کہیں کہیں جلوہ دِکھا جاتی ہے۔ ’’دادر پُل کے بچّے‘‘ اسی قسم کے ناولوں میں ہے۔ ڈاکٹر محمد احسن کرشن چندر نے اس ناول میں بھگوان کو ایک ایسے متجسّس صاحبِ فہم و ذکا کے استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے جو بمبئی کی زندگی کے شب و روز کا جائزہ لینے کے لیے نکلتا ہے اور چشمِ حیرت سے معاشرے کے رِستے ہوئے ناسوروں پر گہری نگاہ ڈالتا ہوا گزر جاتا ہے۔ یہ بمبئی کی زندگی کے وہ گھناؤنے اور تاریک پہلو ہیں جو بظاہر نظر سے ڈھکے چھپے رہتے ہیں لیکن اس کی جبیں پر بدنما داغ ہیں اور جنھیں دیکھ کر ایک حسّاس شخص کو معاشرے کے بوسیدہ اور فرسودہ ہونے کا احساس جھنجوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ اس تصنیف میں کرشن چندر نے خدا اور جنت و جہنم کے تصوّر کی بڑی بے باکی اور شدّت سے شکست و ریخت کی ہے۔ یہ عمل اُن کے اشتراکی نظریات کے عین مطابق ہے۔ یہ ناول کرشن چندر کی ایک قابلِ قدر تخلیق ہے۔ جگدِیش چندر وَدھاون

Water shehar by misal مدتوں بعد اُردو میں ایکPages: 170 Category: English , Novel An eight year old is sent to live in a community of widows in India, and finds a new purpose there, in a novel by a writer of enormous talent ( Newsday ). Set in 1938, against the backdrop of Gandhis rise to power, Water follows the life of eight year old Chuyia, abandoned at a widows ashram after the death of her elderly husband. There, she must live in penitence until her death. Unwilling to accept her fate, she

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products