Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD250.00 USD282.00

Pay in 4 interest-free payments of $62.50 Learn more

Tehzeeb Ki Kahani - تہذیب کی کہانی data ghunj bakhsh زیر ِ نظر ناول "بابِ

SKU: 94175909438
4.5

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 3 - Sep 8

Description

زیر ِ نظر ناول "بابِ اسرار" ان کے ناول The Dervish Gateکا اردو ترجمہ ہے جو ترکی زبان میں 2008ءمیںBab i Esrar کے نام سے شائع ہوا۔ اس سنسنی خیزناول کا موضوع مولانا جلال الدین رومی اور شمس تبریز کا باہمی صوفی تعلق ہے۔ناول کی کہانی دو معموں کے گرد گھومتی ہے۔ایک شمس تبریز کے قتل کا اسرار، ایک ایسا اسرار جو سات صدیاں بعد بھی قائم ہے اور دوسرا موجودہ زمانے میں قونیہ کی ایک آتش زدگی اور اس میں ہونے والی ہلاکت کا معمہ۔ ان دونوں اسرار کو حقیقی اور تخیلاتی یعنی خواب کی دنیا میں کیرن کیمیا کا کردار حل کرتا دکھائی دیتاہے۔ احمت امید کی زبان وبیان اور تخیل نے اس داستان کو مزید پُرتجسس بنا دیا ہے۔ ناول کا بنیادی موضوع صوفی عقیدہ ہے کہ اس دنیا کی حقیقت محض ایک فریب ہے۔ ناول میں انہوں نے صوفی ازم کے عقائد کو نئے تناظر میں بیان کیا ہے اور انسان اور مذہب، عشق اور عقیدے، پر ان سوالوں کے جواب دئیے ہیں جو سات صدیاں بعد آج بھی زندہ ہیں۔ یہ ناول ترک سیکولر ثقافت میں صوفی ازم کے اظہار کی شان دار مثال ہے۔

Contributors: Maleeha Lodhi

جب ایک فن کار کمال کو پہنچتا ہے تو وہ جو فن پارہ تخلیق کرتا ہے وہ اس فن کار سے علیحدہ اپنا تشخص اختیار کر لیتا ہے۔ اس مقام پر فن کار اور فن پارہ دو لوگ ہو جاتے ہیں۔ فن پارے کے کردار آزاد ہو جاتے ہیں، ان کی بود و باش، مزاج اور شخصیت فن کار کی قید سے نکل جاتے ہیں۔ اس کی بستیاں اپنے فطری ارتقا سے متنوع اور منفرد ساخت اختیار کرتی ہیں، فن پارے کا ماحول اور اس کی ثقافت اس کی اپنی ہوتی ہے۔ اس منزل پر وہ فن کار کے بجائے ایک قاری، ایک ناظر، ایک تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں فن کار کرداروں کی فطرت اور مزاج کا تابع بن کر رہ جاتا ہے۔ اس لطیف مقامِ تخلیق تک خوش نصیب مہا فن کار ہی پہنچ پاتے ہیں۔ وہ مقام جہاں تخلیق کار چھو کر مٹی کے باوے زندہ کر دے، سیاہ و سفید الفاظ میں بکھری دُنیا کو رنگین گُل و گُل زار کر دے، اوراق میں لپٹی خاموشی کو زبان دے دے اور قاری کو ایک جہانِ رنگ و بُو کے بیچ لا کھڑا کرے، اس مقام پر گاہے تخلیق کار کی ذات کا پَرتو تخلیق پر پڑتا ہے اور گاہے تخلیق کا رنگ خالقِ فن پر اُترتا ہے، البتہ گاہے گاہے، کہ یہ دو مختلف لوگ ہوتے ہیں۔ علی اکبر ناطق کے تخلیق وفور کے سرکش، سر پٹکتے، اُچھلتے، چھینٹیں اُڑاتے دریا نے ’’کماری والا‘‘ کی تخلیق کے بعد ایک پُرسکون، لامتناہی، گہرے، بھید بھرے سمندر کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس ناول نے اسے اُردو ادب کے ان چند اعلیٰ ادیبوں میں شامل کر دیا ہے جو مذکورہ لطیف مقامِ کمال تک جاتی راہ کے قافلے کے مسافر ہیں، وہی مقام جہاں فن پارہ فن کار کی قید سے آزاد ہو کر ضوفشاں ستارہ بن جاتا ہے۔

and journalist holds that the country’s leaders

رسیدی ٹکٹ امرتا پریتم کی آپ بیتی ہے جس میں انہوں نے ناول کی ہئیت میں اپنی داستان زندگی بیان کی ہے۔ یہ داستان زندگی کہیں ڈائری کی صورت میں ہے اور کہیں ان کی نظموں کی صورت میں۔ ڈائری کے اقتباسات وہ شامل ہیں جن میں انہوں نے اپنے بیرونی ممالک کے قیام کی روداد لکھی ہے۔ اس آپ بیتی کے مطالعے سے امرتا کے زہنی رجحانات کا بھی پتہ چلتا ہے۔ آپ بیتی میں ان کا انداز اس حد تک بے باک ہے کہ وہ اپنی سیگریٹ اور شراب نوشی کی عادت کا بھی برملا اظہار کرتی ہیں۔ ساحر لدھیانوی سے اپنی محبت کی کہانی بھی سناتی ہیں۔

Tehzeeb Ki Kahani - تہذیب کی کہانی data ghunj bakhsh زیر ِ نظر ناول "بابِPages: 213 Category: History

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products