Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD500.00 USD532.00

Pay in 4 interest-free payments of $125.00 Learn more

Islami Qanon Ki Tashkeel Main Sahabah Ka Kardar - اسلامی قانون کی تشکیل میں صحابہؓ کا کردار Urdu Translation of Ten Myths About Israel the author finds solace in

SKU: 8846749970
4.5

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 3 - Sep 8

Description

the author finds solace in science and rationality

محمداظہارالحق ایک سچا فنکار ہے اور اُس کے اندر کا خیال ہر سچّے فنکار کی طرح وسیع، عمیق، پُراسرار اور پُرپیچ ہے جو بہت سے تضادات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اُس کی شاعری کی بافت میں اَن گنت تار گندھے ہوئے ہیں۔ قرآن کی آیتیں، حدیث کی روایتیں، اکابرکے اقوال، اساطیر، مختلف اقوام کی تاریخ کے متنوّع اور بسا اوقات متضاد عناصر اور معلوم نہیں کیا کیا، اُس کے سمندر میں تہ بہ تہ جما ہواہے۔ مرو، کاشغر، غرناطہ، قرطبہ، شراب، انجیر، پوستین، طلائی فرغل، ملازم، خرگاہ، اسپ، شطرنج، کنیزیں، مشعلیں، پانی میں اترتی مرمر کی سیڑھیاں، یہ سب بکھرے ہوئے خدوخال کی طرح، اُس کے نہاں خانۂ دل سے ابھرتے اور کسی منشاری معمے (Jigsaw Puzzle)کی طرح نئے نئے زاویوں سے جڑ کر اس کی شاعری میں انوکھی تصویریں بناتے ہیں جو کلیشے سے پاک اور تاثیر سے مالا مال ہیں۔ ان تصویروں میں ایک ایسا عمق ہے جس کے روبروسمجھ میں نہیں آتا کہ

Nouman Ali Khan

but showcases the region s diverse

یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ ۱۹۴۷ء میں برطانوی استعمار سے سیاسی آزادی کے فوری بعد ہم نے اپنے تعلیمی ، آئینی، انتظامی اداروں اور زبان وادب اور ثقافتی شعبوں کو استعماری اثرات سے آزاد کرانے یعنیDecolonization کی ہمہ گیر مساعی کیوں نہیں کیں؟ آزادی کی بعد کی تحریروں میں راج ، نو آبادیات، غلامی، آزادی کی تحریک اوراس کے قائدین کا ذکر تو کثرت سے ملتا ہے؛ آزادی کی صبح کے اجالے کے داغ داغ ہونے کا نوحہ بھی ملتا ہے؛ ثقافتی شناخت کے تعین کی سعی بھی ملتی ہے؛ادب کی پاکستانی شناخت کا سوال بھی ملتا ہےنیز جس استعمار سے آزادی کے لیے جدوجہد کی گئی، اس استعمار کے معاشی، ثقافتی استحصال کی نشان دہی منتشر صورت میں ملتی ہے ،مگر جن اداروں اور تصورات کے تحت یہ استحصال ممکن ہوا، ان پر کوئی باقاعدہ اور مسلسل ڈسکورس نہیں ملتا ہے۔دو ایک اردو نقادوں نے مغربی ادبی کینن کے غلبے کی طرف اشارہ ضرور کیا اور اس کی جگہ عرب و عجم یا مقامی صوفیانہ روایت کی طرف توجہ کرنے کے ضرورت کا احساس ضرور دلایا مگر استعماری اجاراہ دارانہ روشوں اور تصورات اور ہیئتوںسے نجات کی باقاعدہ عظیم تنقیدی کوشش نظر نہیں آتی۔ اس ڈسکورس کے غیر موجودگی آج ہمیں زیادہ محسوس ہوتی ہے اور کئی سوالات جنم دیتی ہے۔ کیا اس لیے کہ ہماری سیاسی مقتدرہ نے ایک مذہبی ریاست کی تعمیر کو اپنا بنیادی مقصد بنایا اور مذہبی ریاست کا وہ تصور قبول کیا، جسے ایک ’غیر ‘(the other) یعنی ہندو کے مقابلے میں وضع کیا گیا تھا؟ کیا اسی لیے آزادی کے بعد ، ہم نے اپنے ہر شعبہ ء زندگی بہ شمول زبان اور جملہ فنون کو ہندووانہ عناصر سے پاک کرنے کی کوشش کی؟ کیوں اپنے ہرشعبہ ء زندگی کو استعماری اثرات سے آزاد کرانے کے بجائے،ہم اسی استعماری عہد میں ایجاد ہونے والے دشمن کے بھوت کو ٹھکانے لگانے کی کوششوں میں مصروف رہے؟ آج ہمارے لیے یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ کیوں ہماری دانشورانہ وتخلیقی سرگرمیوں کا رخ یا تو اپنی ذہنی وتخیلی دنیا کو مذکورہ’ غیر‘ سے ’پاک کرنے ‘ کی طرف رہا (منٹو کا آزادی کے فوری بعد لکھا ہوا ’اللہ کا بڑا فضل ہے‘ یاد کیجیے)یا پھر ہجرت وبے دخلی (displacement) کو بیان کرنے اور اس کی تاریخی، مذہبی جڑیں تلاش کرنے اور گزرے زمانوں کے احیاو بازیافت کی جانب رہا؟ کیا تاریخ نے ہمارے سامنے کوئی دوسرا راستہ نہیں چھوڑا تھا ؟ بچی کچھی توانائی آمریتوں کے خلاف جھگڑنے میں صرف ہوئی۔

Islami Qanon Ki Tashkeel Main Sahabah Ka Kardar - اسلامی قانون کی تشکیل میں صحابہؓ کا کردار Urdu Translation of Ten Myths About Israel the author finds solace inPages: 490 Category: History Book

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products