Aik Thi Sara shehr e zaat اس ناول نے میرے اندرعجیب
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 25 - Aug 30
Pay in 4 interest-free payments of $50.00 Learn more
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 25 - Aug 30
اس ناول نے میرے اندرعجیب و غریب کیفیات برپا کیں۔ اس کا ماحول تاریک ہے اور قدرے بھیانک بھی۔ نہایت وسیع پھیلائو ہونےکے باوجود مصنف نے بہت مہارت سے اور قدرے اختصار کے ساتھ ماضی، حال اور مستقبل کے نسبتی سلسلوں کی بنت کاری کی ہے۔ اس تجربے کا ماحصل یہ لرزا دینے والا تصور ہے کہ بدی یعنی حرص اور تخریب کی جبلت انسان کی تقدیر ہے۔ نہایت فن کاری سے لکھا گیا یہ ناول تاریخ و ثقافت کے طویل ادوار کو اپنے پُراعتماد بیانیے سے ایسے یکجا کرتا ہے کہ ماضی اور حال کی تصاویر اتنی ہی جاندار نظر آتی ہیں جتنا مستقبل کا تصور۔ ناول یہ کہتا محسوس ہوتا ہے کہ روز حاضر کے خوف آنے والے دنوں کے ہیبت ناک اندیشوں سے کچھ کم نہیں۔ علمیت اور ذہانت سے لبریز یہ تحریر پڑھنے والے کو لبھاتی بھی ہے اور ڈراتی بھی۔ (شمس الرحمٰن فاروقی) میں نے اپنے کسی ناول میں لکھا تھا کہ وقت ایک تسلسل کے ساتھ گزرتا جاتا ہے اور ہم ٹھہرے ہوتے ہیں لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یہ وقت ہے جو تھم چکا ہے اور یہ ہم ہیں جو گزرتے جاتے ہیں۔ اسامہ صدیق کا ناول ’’چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں‘‘ پڑھتے ہوئے میں اس سراب کا شکار ہوا کہ وقت ٹھہر چکا ہے اور یہ اسامہ صدیق ہے جو اس میں گزرتا جاتا ہے۔ ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی جانب ایک کھوجی کی مانند سفر کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کی تخلیقی قوت وقت کے نقشِ پا کو دریافت کرنے کبھی تو الٹے قدموں ماضی میں چلی جاتی ہے اور کبھی مستقبل کی جانب گامزن ہو جاتی ہے۔ ماضی کا سفر آسان ہوتا ہے کہ آپ تحقیق اور وجدان کو بروئے کار لا کر اسے زندہ کر سکتے ہیں، موجودہ زمانہ آپ کی آنکھوں میں عکس ہوتا جاتا ہے اور آپ اسے اپنے مشاہدے میں منتقل کر کے بیان کر جاتے ہیں لیکن مستقبل میں اترنے کے لیے اپنی جان دائو پر لگانی پڑتی ہے اور یہ صرف قوتِ متخیّلہ ہے جس کے زور پر آپ تصور کر سکتے ہیں کہ مستقبل کی تصویرمیں کون سے کردار حرکت کریں گے۔ جیسے کچھ مہم جو گہرے غاروں کی تاریکی میں اتر جاتے ہیں اور نئی دُنیائیں دریافت کرتے ہیں ایسے ہی اسامہ اپنے تخیل کے سہارے مستقبل کے اجنبی اور نادریافت غاروں میں اترا ہے اور اَن دیکھی دُنیائوں کے باشندوں کو اپنے زورِ قلم سے زندہ کر دیا ہے۔ اسامہ جس آسانی اور قوت بھری روانی سے ماضی میں لوٹ جاتا ہے، پھر حال کا سفر اختیار کر کے مستقبل میں جا آباد ہوتا ہے، میرے لیے شدید حیرت کا باعث بنا۔ میں تو اپنے ناول ’’بہائو‘‘ کے کرداروں کی تلاش میں سرسوتی ندی کے سوکھتے ہوئے پانیوں تک جا پہنچا۔ موہنجوداڑو کی گلیوں کی مسافت اختیار کی۔ ان زمانوں میں واپس گیا تو بس وہیں رہ گیا، لوٹ آنا میرے بس میں نہ رہا اور اسامہ ہے کہ نہ صرف ماضی میں کچھ ایام بسر کرتا ہے، پھر حال کو بیان کرتے ہوئے مستقبل کی وادیوں میں کوہ نوردی کرنے لگتا ہے اور اس کے چہرے پر ان مسافتوں کی تھکن ہی نہیں ۔ اس کی تحریر کی دل کشی اور دل ربائی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ ادب کے آسمان پر اسامہ ایک ایسے ماہتاب کی مانند ابھرا ہے جو کبھی بجھایا تو نہ جائے گا۔ (مستنصر حسین تارڑ)
Philosophy
گاؤںمیں پہلے اماں سے کہانیاں سنیں، پھر شبرے قصائی صاحب سے، پھر بچوں کی دُنیا اور نونہال رسالے خریدنے شروع کیے۔ پھر اخبارمیں بچوںکا صفحہ پڑھنا شروع کیا۔ پرائمری سے مڈل سکول پہنچے تو ٹارزن، عمرو عیار کی کہانیاں، سند باز جہازی کے سفر پڑھنا شروع کیے۔ گھر میں بچوں کی کہانیوں کی لائبریری بن گئی۔ ہائی سکول میں ڈائجسٹ پڑھنے شروع کیے تو شکیل عادل زادہ کا ’’بازی گر‘‘، شوکت صدیقی کا ’’جانگلوس‘‘، محی الدین نواب کا ’’دیوتا‘‘، احمد اقبال کا ’’شکاری‘‘ تو اقلیم علیم کا ’’موت کے سوداگر‘‘ حواس پر چھائے رہے۔
’’دہشت گرد شہزادہ‘‘ الذوالفقار کی کارروائیوں کی مربوط داستان ہے۔ یہ مسلح گروہ مرتضیٰ بھٹو نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کا انتقام لینے کے لیے تشکیل دیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم تھے جنھیں جنرل ضیاء الحق نے1977ء میں معزول کیا اور پھر قتل کرا دیا۔ ’’الذوالفقار‘‘ کا قیام 1981ء میں عمل میں آیا اور 1996 ء میں مرتضیٰ بھٹو کو قتل کیے جانے تک اس کا وجود برقرار رہا۔ اس کی تندوتیز سرگرمیوں کا دور 1980ء کے عشرے کا ابتدائی اور درمیانی عرصہ تھا۔ راجہ انورنے اس تنظیم کی جن دہشت گرد کارروائیوں کاذکر کیاہے ممکن ہے انھیں پڑھتے ہوئے مغرب کا قاری اضطراب محسوس کرے لیکن مغرب کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ خود ان دنوں جنرل ضیا جیسی استبدادی حکومتوں کاپشت پناہ تھا اور خود ایسے دہشت پسند گروہ تشکیل دے رہا تھا جن میں افغانستان میں بھیجے جانے والے گروہ شامل تھے۔ ان تشدد پسند گروہوں کی کارروائیاں الذوالفقار سے کہیں زیادہ سفاک اور تباہ کن تھیں۔ جنرل ضیاء الحق کاگیارہ سالہ آمرانہ دور (1977-88ء) پاکستان کی المناک تاریخ کا انتہائی گھناؤنا باب ہے۔ اس دورمیں ملک کودہشت وبربریت ملی۔ حکمران طبقے نے ایک ناقابلِ گرفت ہیروئین مافیا کو جنم دیا جو آج بھی ملک کی سیاسی اور سماجی زندگی کو جکڑے ہوئے ہے۔ ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹنے اور ذوالفقارعلی بھٹوکو تختۂ دار پہ پہنچانے کے نتیجہ میں ملک میں سیاسی و سماجی انحطاط کا آغاز ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’شہادت‘‘ نے بھٹو خاندان کو ایسا’’ہالہ‘‘ مہیا کیا جس کی آب وتاب حال ہی میں ختم ہوئی ہے۔ بھٹو خاندان
at the very beginning
Aik Thi Sara shehr e zaat اس ناول نے میرے اندرعجیبPages: 176 Category: Biography
US$ 18.90
US$ 14.90
US$ 18.90
US$ 18.90
US$ 14.90
US$ 18.90
US$ 109.00
US$ 13.00
US$ 14.90
US$ 18.90
US$ 14.90
US$ 18.90
US$ 109.00
US$ 15.00
US$ 15.00
US$ 400.00