Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD925.00 USD961.00

Pay in 4 interest-free payments of $231.25 Learn more

Jhook Siyal - جھوک سیال biography of faiz ahmed faiz پاکستانی معاشرے میں جنس کے

SKU: 78902675591
4.6

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 4 - Sep 9

Description

پاکستانی معاشرے میں جنس کے بارے میں بات کرنا بہت ہی پر خطر اور نازک معاملہ ہے اور اس پر ایسی کتاب لکھنا جو اس کے تقریباً تمام پہلووں کو نہ صرف اجاگر کرے بلکہ ان پر سوال اٹھائے بذات خود ایک جرات رندانہ سے کم نہیں۔ میری نظر میں سعید ابراہیم نے اس کتاب میں ان اسباب کو کھل کر بیان کیا ہے جنہوں نے جنس اور جنسیات پر بات کرنے کو ممنوع قرار دے رکھا ہے۔ یہاں جو جاگیردارانہ اور استعماری اقدار رائج ہیں ان کی روشنی میں معاشرے کی بدلتی اقدار کا بھی خاصا ذکر ہے اس کتاب میں۔

as well as a model for exploring other violent cityscapes around the world

راجہ انور کی کتاب ’’قبر کی آغوش‘‘ کے لیے تقریب پنجاب یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ جس کی صدارت ڈاکٹر مجاہد کامران نے کی تھی۔ اب اس کی دوسری کتاب ’’بَن باس‘‘ کی تقریب بھی پنجاب یونیورسٹی میں ہوئی ہے۔ یہ تقریب کہیں اور بھی ہو سکتی تھی۔ یہ راجہ انور کی اپنی مادرِ علمی کے ساتھ وابستگی ہے کہ وہ یہاں پُرانے زمانے کو نئے زمانے کے ساتھ ہم رنگ کرنا چاہتا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں ’’بَن باس‘‘ کے لیے بات کروں، یہ بات بھی سن لیں کہ یونیورسٹی میں اسے جیل جانا پڑا تھا۔ ایسے لوگوں کو جیل بھجوانے کا شوق بھی ظالم اور بزدل لوگوں کو بہت ہوتا ہے۔ ظالم تو بزدل ہوتا ہے۔ بزدل بھی ظلم کرنے سے باز نہیں آتے۔ اس مشہورِ زمانہ کتاب کا نام ہے ’’بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک‘‘۔ یہ عنوان پاکستان میں کتنی ہی کہانیوں کا عنوان بن گیا ہے۔ راجہ انور ایک بہادر آدمی ہے۔ وہ بہادر اہلِ قلم بھی ہے۔ اس نے اپنے قلم کو عَلَم بنا لیا ہے جو قلم کو تلوار بنا لیتے ہیں وہ اور طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ راجہ انور بالکل اور طرح کا آدمی ہے۔ افغانستان میں قیام کے حوالے سے اس کی کتابیں پڑھیں تو صاف پتا لگ جاتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں جیسا نہیں ہے۔ اپنی قبر کی آغوش میں پڑا پڑا بھی وہ اپنے قلب کی آغوش میں تھا جن کے لیے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کے پھرتا رہا۔ وہی اس کی جان لینے کے درپے تھے۔ وہ ان کے ہاتھ لگ گیا مگر نجانے کیا ہوا کہ وہ ہاتھ ملتے رہ گئے۔ جو آدمی اپنے مرنے کی خبر خود اپنے کانوں سے سنے، وہ اپنے اندر شہید ہوتا رہتا ہے۔ کئی بار اس ’’شہادت‘‘ کی سعادت پانے کے بعد بھی وہ زندہ رہے تو وہ کتنا زندہ شخص ہو گا۔ راجہ انور زندہ تر آدمی ہے اور اسے یہ مقام اس کی کتابوں نے دیا ہے کہ وہ سب کچھ لکھنے کا اہل ہوا ہے جو اس کے ساتھ ہوا ہے اور اس کے دل پر بیتا ہے۔ اس کی پیاری ماں اس کی موت کی خبر سن کر مر گئی۔ ماں تو ہوتی ہی پیار اور وفا ہے۔ وہ بھی وفا کے قافلے سے بچھڑا ہوا ایک سالار ہے۔ جو اپنی موت کی خبر سنتا ہے اور ایک لرزہ خیز اور دل دہلا دینے والے ماحول میں زندہ رہتا ہے۔ جب وہ اپنی ماں کی قبر پر کھڑے ہو کے فاتحہ پڑھ رہا ہوگا تو فاتحانہ جانثاری کی یاد نے ایک نئی زندگی کا دروازہ اس کے لیے کھولا ہوگا۔ ’’قبر کی آغوش‘‘ اور ’’بن باس‘‘ اسی زندگی کا تحفہ ہیں۔ وہ راجہ سے مہاراجہ بن گیا ہے اور اسے پتا ہی نہیں چلا کہ اس کے پاس کوئی سلطنت نہیں ہے۔ کوئی جاگیر نہیں ہے۔ تو پھر اس کے پاس کیا ہے۔ مجھے پتا ہے مگر مجھے پتا نہیں۔ راز اور یاد بھی ایک سلطنت ہے۔ راز دو آدمیوں کے پاس نہیں ہوتا۔ راجہ انور نے ہمیں اپنا ہمراز بنا لیا ہے۔ راز کو فروغ دینے کا یہی طریقہ ہے۔ علم بھی راز ہے وہ جو کسی دوسرے کو علم نہیں ہوتا۔

جاوید صدیقی کی کتنی ہی تحریریں مجھے پڑھنے کو ملیں۔ ’’میرے محترم‘‘ کے عنوان سے شخصی خاکوں کا ایک مجموعہ بہت پہلے مجھے بھیجا گیا تھا۔ اب ان کی کہانیوں کا مجموعہ ’’مور پنکھی‘‘ میرے سامنے ہے۔ بہت اچھی کہانیاں اور کمال کے کردار ہیں۔ ’’چھوٹا سیّد پورہ‘‘ نام کا ایک گاؤں ہے جس میں زیادہ تر شیعہ اور سُنّی مسلمان رہتے تھے۔ بعض دوسرے عقیدوں اور مسلکوں کے لوگ بھی تھے۔ صدیقی صاحب کی یہ تحریر پڑھ کر مجھے اپنا لڑکپن یاد آیا کہ مختلف عقیدوں کے لوگ مل جل کر رہتے تھے۔ ایک دوسرے کے لیے یک جہتی اور قبولیت کا ماحول تھا۔ جاوید صاحب کے افسانوں میں کردار جاندار ہونے کے ساتھ ماحول کی بہترین عکّاسی بھی کرتے ہیں جو قاری کو متوجّہ کرتی ہے۔ ان کے یہ افسانے اُردو ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ہیں۔ کہانی کہنے کا فن مسحور کن ہے، خوشگوار ہے۔ ان کی جو بھی کتابیں پڑھنے کو ملیں، میں نے دلچسپی سے پڑھیں۔ دعاگو ہوں کہ یہ ادب میں ایسے نفیس اضافے کرتے رہیں۔

On return to Hyderabad-Deccan in India

Jhook Siyal - جھوک سیال biography of faiz ahmed faiz پاکستانی معاشرے میں جنس کےPages: 456 Category: Novels

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products