Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD1050.00 USD1089.00

Pay in 4 interest-free payments of $262.50 Learn more

Mery Sahir Se Kaho - میرے ساحر سے کہو Gadariaa اس مصنف کے لیے اطمینان

SKU: 76932430389
4.8

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 6 - Sep 11

Description

اس مصنف کے لیے اطمینان کی بات یہ ہے کہ اردو میں مابعد نوآبادیاتی تنقید کو باقاعدہ قائم کرنے میں (اس کی بکھری ،منتشر مثالیں ،بلاشبہ پہلے موجود تھیں)،نوآبادیاتی اور نئے نوآبادیاتی عہدکے اردو ادب میں سماجانےو الی مغربی استعماری روح ، اس کی مخفی وبین اور متنوع صورتوں کو خالص علمی ومنضبط انداز میںسامنے لانے کی روش کا آغاز کرنے میں، ان کتابوں کا کچھ نہ کچھ حصہ ہے۔ اس حصے کی نوعیت وافادیت کاجائزہ لینا، اس مصنف کا نہیں ، اس مصنف کے قارئین اور نقادوں کا کام ہے۔ اس مصنف کے لیے یہ بھی اطمینان کی بات ہے کہ اس کتاب کو قارئین ونقادوں کی خاموشی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ نہ صرف اسے دو قومی اعزازات (باباے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ اور اوکسفرڈ لٹریری فیسٹول ایوارڈ)ملے،بلکہ پاکستان وہندوستان کے سرکردہ نقادوں نے اس پرلکھا۔ اختلاف بھی کیا گیااور اتفاق بھی۔اس کتاب کے بعض قارئین کو یہ اختلاف رہا ہے کہ اس میں اردو ادب کے چند مشاہیر کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اردوادب کی تاریخ نویسی کا غالب رجحان ماضی کی ان ادبی شخصیات کی غیر مشروط مدح سرائی سے عبارت رہاہے،جن کا کچھ بھی حصہ یا کردار قومی شناخت کے قیام میں رہا ہے۔ اس کتاب کے مصنف نے غیر مشروط مدح کی بجائے، سچائی کو غیر مشروط طور پر سمجھنے اور پوری شائستگی اور دلیل و شہادت کے ساتھ،اسے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔اس ضمن میں رائج و مقبول آرا کو اپنے نتائج کے استباط کی بنیاد نہیں بنایا۔ مثلاً پہلے باب میں مسلمانوں اور انگریزوں کے سیاسی و ثقافتی کردار کو معرض بحث میں لاتے ہوئے، کسی مقبول رائے کو مدنظر رکھنے کی بجائے معقولیت کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے ۔ آپ اس مصنف کے معقولیت کے تصور سے اختلاف کرسکتے ہیں۔اس کے طریق کار اور نتائج سے بھی اختلاف کرسکتے ہیں،مگر اس سے نہیں کہ پوری کتاب میں کسی رائے کی بنیاد مصنف کا اپنایا دوسروں سے اخذ کردہ تاثر نہیں ہے۔ ایک موضوع سے متعلق زیادہ سے زیادہ اور بنیادی مآخذ کو پیش نظر رکھ کر نتائج کا استنباط کیا گیا ہے۔(بلاشبہ ان نتائج کے استنباط میں ایک زاویہء نظر ضرور کارفرما رہا ہےجسے آپ آزادانہ تفہیم کا نام دے سکتے ہیں)۔ یہی طریقہ حالی، شبلی، نذیر احمد ،سرسید، اکبر ،منٹو، میراجی، قرۃالعین حیدر اور انتظار حسین کے ضمن میں اختیار کیا گیا ہے۔ ان سب کے مطالعے میں اس دھاگے کو گرفت میں لینے کی سعی کی گئی ہے کہ اردو ادب نے کس طور،کن اسباب اور کن واضح مقاصد کے تحت، کلاسیکی شعریات سے الگ اور نیا رخ اختیار کیا اور اس میں استعماریت، قومیت، جدیدیت کا کیا کردار رہا ہے۔نیز یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہاںہمارے مشاہیر نے استعماری آئیڈیالوجی کی کُھلی یا بین السطور حمایت کی اور کہاں اس سے فاصلہ اختیار کیا اور کہاں اس کے خلاف کھلے لفظوں میں یا بالواسطہ مزاحمت کی۔جدید اردو ادب کی تشکیل میں حصہ لینے والے متون کے افقی اور عمودی مطالعات کیے گئے ہیں۔اس زمانے کی تاریخی صورت حال ، سماجی و ثقافتی حالات کے ساتھ ساتھ ادبی رجحانات کا نقشہ پیش کیا گیا ہےمتون کی تمام ممکنہ معنوی سطحوں کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

پیش لفظ

this book is a useful guide for scholars

He practised corporate law in London and Milan at White & Case

تو بس ایں چیزے دِگر است۔ سچ تو یہ ہے کہ میرے قلم میں نہ اتنی طاقت ہے اور نہ ہی وہ الفاظ کہ میں اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ہمت کر سکوں۔ کوئی ایک بات ہو تو مجھ جیسی کوتاہ قلم کے قابو آئے۔ کیا سراسر فصاحت و بلاغت، کیا گاتی گنگناتی مدھر عبارت ہے جس کی لہروں کا سارا اتار چڑھاؤ اور بدلتے تیوروں کا بیان طاہرہ کے قلم کی کرامت کہی جا سکتی ہے۔’’گراں‘‘ زندگی کے ایک ایک پل بدلتے روز و شب کے جلو میں لمحہ لمحہ بدلتی موہوم سے موہوم کیفیتوں کا بیان پوری رنگا رنگ جزئیات اور صوتی تاثرات قائم کرنا، اس انداز کی خلاقی اور تخلیقی ہنر کسی کسی کا ہی نصیب ہوتا ہے۔ ’’گراں‘‘ ناول کیا ہے ایک جیّد میموریل ہے جس میں رنگ بھرنے والی کے قلم (قلم ہے یا موقلم) نے گراں اور اس کے تناظر میں پھیلی نباتی اورحیاتی زندگی کے خفیف سے خفیف گوشے کو نظرانداز نہیں کیا۔ حد یہ کہ چویے کے ٹھہرے پانی کی تہ میں جمی کائی کی تہ سے پھوٹتے پودوں اورکناروں پر لٹکتے جالوں کے کتھئی رنگ اور لمبی لمبی ٹانگوں والے مینڈکوں کے رنگوں کو بھی نظر انداز کرنے کا کیا سوال، وہ تو مکئی اور باجرے کی گرم گرم بھاپ چھوڑتی روٹیوں پر مکھن کی سفید جھاگ سے پگھلتے رنگوں کو بھی رنگ دیتی ہیں۔ میں کہتی ہوں اس خاتون نے اپنی نوکِ قلم کے اندر کتنے پیلٹوں اور رنگ کی کتنی پیالیوں میں کیسے کیسے اور کتنے رنگ بھر رکھے ہیں۔ کبھی پھلا ہی کی لکڑی کے کوئلوں کی آگ پرجمی سفید راکھ ہے۔ کہیں کہیں مونگ پھلی کے کھیت کھودنے اور سُرخ سُرخ مٹی پر چھائی ہری ہری بیلوں کے رنگ ہیں۔ میں خود سے پوچھتی ہوں اور پھر اس تمام رنگا رنگ بُنت کے تاروپود سے بنتی اور ابھرتی ہوئی ’’گراں‘‘ زندگی کی ہمہ رنگی کہانی کو پڑھتی ہوں۔ حرکات و جزئیات کی خفیف سے خفیف کیفیت کو ایک راگ، ایک لَے، سُر اور رنگ کے ساتھ کہانی میں سراسر بغیر تکلّف یا کسی کوشش کے سموتے جانا

Mery Sahir Se Kaho - میرے ساحر سے کہو Gadariaa اس مصنف کے لیے اطمینانPages: 704 Category: Novels

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products