Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD150.00 USD179.00

Pay in 4 interest-free payments of $37.50 Learn more

Hamaray Liyae Manto Sahib - ہمارے لیے منٹو صاحب barzukh dear reader

SKU: 72992534893
4.9

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 30 - Sep 4

Description

dear reader

Pages: 386

باری علیگ کے قلم نے اس وقت شعور کی آنکھ کھولی جب برصغیر میں فرنگی اقتدار اپنے عروج پر تھا۔ بڑے بڑے بہادر حق بات کہنے سے کتراتے تھے۔ فرنگی کے خلاف لب کشائی ایک سنگین جرم تھا۔ سیاست و معیشت پر فرنگی کے پروردہ اور نسلوں سے انگریز کے وفادار چلے آنے والے انسانوں کا تسلط تھا۔ ایسے دور میں باری علیگ نے جو دیکھا اور جو محسوس کیا بے خوف نوکِ قلم پرلے آئے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ غلامی نے افرادِ قوم کے اذہان پر صدیوں سے محکومی کی گرد کی تہیں جما دی ہیں، کارواں لُٹ گیا ہے، کسی کو احساسِ زیاں بھی نہیں، کشتی ڈگمگا رہی ہے اور کوئی نا خدا بھی نہیں۔ باری نے یہ چیز شدّت سے محسوس کی کہ پورے ملک کی فضا پر سکوت طاری ہے۔ صحیح سمت میں کوئی مؤثر تحریک تو کیا عام لوگوں کے ذہنوں سے سوچ کی کوئی لہر بھی انگریز کے خلاف نہیں اٹھ رہی۔ باری علیگ نے اسی احساس کے تحت قلم سے جہاد شروع کیا۔ ’’کمپنی کی حکومت‘‘ کے نام سے کتاب تصنیف کی تو انھیں باغی قرار دے دیا گیا۔ حکمرانوں کے عتاب کا نشانہ بنے مگر ان کے پایۂ استقلال میں لغزش نہ آئی۔ باری نے علمی ادبی محفلوں میں اخبارات اور اپنی تصانیف میں ہر جگہ اور ہر انداز سے جہاں غیر ملکی حکمرانوں کا پردہ چاک کیا، وہاں اس بے ضمیر اور خودغرض ٹولے کی سازشوں اور گھٹیا حرکتوں کو بے نقاب کیا جو ہر دور میں حاکموں کی چوکھٹ پر اپنا سرر گڑ تا ہے۔ انھیں وطن کی لوٹ کھسوٹ اور عام لوگوں کی معاشی بدحالی بُری طرح کھٹکتی تھی۔ باری نے عوام کو شعور بخشنے اور صحیح راہ پر چلانے کے لئے جذباتی نعروں کی راہ اختیار نہیں کی بلکہ علمی و منطقی طریقہ اختیار کیا۔ سائنسی انداز تحقیق کا سہارا لیا۔ بقول ڈاکٹر عبدالسلام خورشید، ’’وہ ادیب تھا اور ادب ہی کو سیاسی بیداری کا ذریعہ بتاتا تھا۔‘‘

ہاشم ندیم

آج اُردو افسانے یا ناول کی وہ دُنیا نہیں ہے جو عصمت چغتائی، منٹو یا بیدی کے وقت میں تھی۔ یہ ایک نئی اور حیران کرنے والی دنیا ہے اور غور کیجیے تو آج کی کہانی نئی شکل، نئے انداز اور نئے اسلوب میں ہمارے سامنے ہے۔ مسرّت اس بات کی ہے کہ آج ہمارے درمیان مرزا اطہر بیگ، مبین مرزا، مستنصر حسین تارڑ، خالد طور، رضیہ فصیح احمد، طاہرہ اقبال اور عاصم بٹ جیسے لکھاری موجود ہیں جنھوں نے نہ صرف نئے اُردو افسانے کے فروغ میں اپنی طرف سے اضافہ کیا ہے بلکہ ان بلندیوں پر بھی پہنچایا ہے جہاں ہم آسانی سے اُردو ادب کو عالمی شہ پاروں کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ ممتاز شیریں، عصمت چغتائی اور قرۃ العین حیدر سے الگ طاہرہ اقبال کے افسانوں کو دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ طاہرہ کے سامنے پاکستان کا سیاسی و سماجی منظر نامہ بھی ہے اور وہ اس قدر زرخیز خلاقیت رکھتی ہیں کہ پاکستان کے گاؤں سے گزرتی ان کی کہانیاں بصری پیکروں کے ساتھ ان کے Process Thought کو زندگی اور نئے فلسفہ کے امتزاج سے ایک نئے تصویری منظرنامے میں تبدیل کر دیتی ہیں اور اس طرح غور کریں تو ان کی طویل کہانیوں کے خاتمہ کے بعد جو مونتاژ بن کر ابھرتا ہے وہ غالب کے اس شعر کی یاد تازہ کراتا ہے

Hamaray Liyae Manto Sahib - ہمارے لیے منٹو صاحب barzukh dear readerPages: 125 Category: Urdu adab, Critics, Tanqeed

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products