Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
PLN250.00 PLN285.00

Pay in 4 interest-free payments of $62.50 Learn more

Mera Aitbar Rakhna - میرا اعتبار رکھنا husan manzer اصل فارسی کے بحروقافیہ اور

SKU: 67099488139
4.4

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 28 - Sep 2

Description

اصل فارسی کے بحروقافیہ اور ہم آہنگ ردیف میں " معجزہ گر نیست کرامات ہست"

Pages: 432

She shows how regressive Pakistani laws instituted in the 1980s worsened citizen attitudes and led to vigilante and mob violence

میں نے جب سے ہوش سنبھالا،ستلج کو ایسا ہی دیکھا۔ کسی ودھوا کی سیندور سے عاری اجڑی مانگ سا۔ کسی حق بخشوائی گئی ان چھوئی عورت کے دل کی طرح ویران جھلستا کلستا زندگی کے لمس سے قطعی نا آشنا۔ دامن میں حد نگاہ تک پھیلی بوند بوند کو ترستی ریت سمیٹے۔ میں آج تک ستلج کی اس ویرانی کو سندھ طاس معاہدے کا شاخسانہ ہی سمجھتی آئی۔ جس نے اس بدقسمت دریا کے حسن و شباب، سندرتا، کو ملتا کو خوب رگیدا اور اسے اس کے باکرہ پن سے محروم کر کے ’’انواسی ستلج‘‘ بنا دیا۔لیکن بھلا ہو حفیظ خان کا،جنھوں نے ’’اَنواسی‘‘ جیسا باکمال ناول لکھ کر یہ گرہ کشائی کی۔ ’’اَنواسی‘‘ داستان ہےاسی ستلج کی ریتلی دبیز تہوں میں گم ہوئے نوآبادیاتی جبر اور استحصال کے مدفن کی کھدائی کی۔ انیسویں صدی کے آخری نصف کی جب انگریز اپنا ریلوے نظام لے کر برصغیر پہنچے اور کراچی سے لاہور تک ریلوے ٹریک بچھاتے ہوئے بہاول پور کے دریائے ستلج پر ایمپریس پُل بنانے کے لیے اس دریا کی باکرہ کوکھ چیر کر لوہے کے ستون گاڑنے اور برطانوی استعمار کے ہاتھوں مقامیت برباد ہونے کا آغاز ہوا۔ ناول کی مرکزی کردار سنگری اور دریائے ستلج، دونوں کے اَنواسی پن اور ویرانی کا آغاز بھی اسی وقت ہوا جب اس کے کنارے آباد مقامی آبادی کے قدیم قبرستان کو مسمار کر کے مدت مدید سے وہاں مدفون بزرگوں اور شہدا کی گل چکی ہڈیوں کو نکالا گیا۔ درویشوں نے اجتماعی گریہ زاری کی اور آسمان کی جانب شہادت کی انگلی اٹھا کر بددعا دی:

مٹی کے صنم کرشن چندر کی دوسری آپ بیتی ہے جو "میری یادوں کے چنار" کی طرح مقبول ہوئی۔ اس ناول کا کینوس بھی بہت محدود ہے اور اس کا تعلّق اکثر و بیشتر کرشن چندر کے سکولی دَور سے ہے۔ بدیں وجہ اس کی افادیت بطور ایک سوانح حیات کے کرشن چندر کے لڑکپن تک ہے۔ گو دو ایک ابواب متفرق موضوعات پر بھی ہیں۔ ذرا ابواب کی نوعیت ملاحظہ ہو: حاجی پیر پر کرشن چندر کی والدہ کی لاہور سے آمد اور ان کے مذہبی اعتقادات، حاجی پیر سے وابستہ یادیں، علی آباد کی راکھ (Sanctuary) سے کرشن چندر کا لگاؤ، پونچھ کی کچھ تلخ و شیریں یادیں، کرشن چندر کا سکولی دور، حسن شاہ کا کتب خانہ اور کرشن چندر کا شوقِ کتب بینی، کرشن چندر کے ناپختہ عشق کی حُسن سے اوّلین ملاقات، مہیندر کی زندگی کی سنہری یادیں، کشمیر میں ہندو مسلم تفرقات اور تنازعات کا آغاز۔ یہ تصنیف بھی اپنی پیش رو سوانح حیات کی طرح کرشن چندر کی ابتدائی زندگی کے بارے میں معلومات کا منبہ اور سرچشمہ ہے۔جگدِیش چندر وَدھاون

Mera Aitbar Rakhna - میرا اعتبار رکھنا husan manzer اصل فارسی کے بحروقافیہ اورPages: 208 Category: Novels

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products