Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD525.00 USD560.00

Pay in 4 interest-free payments of $131.25 Learn more

Shikariyat Ki Naqabal E Faramosh Dastanien ( Part 1 ) - شکاریات کی ناقابل فراموش داستانیں Amrata Pretum خود ماہین نے بھی اتنے

SKU: 65370883700
4.4

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 4 - Sep 9

Description

خود ماہین نے بھی اتنے کم دنوں میں اتنے زیادہ ٹھکانے اور اتنے زیادہ مرد بدلے کہ اُسے عورت کے مزاج میں دخیل پردیسی پن اور عدم تحفظ کی وجوہات سمجھ میں آنے لگی تھیں۔ ہر نئی جگہ اور ہر نئے مرد سے بہت کم وقت میں جڑت کا وصف عورت کو شاید اِسی پردیسی پن اور عدم تحفظ کے ردِ عمل میں عطا ہوا ہو گا کہ جو مردوں کے نزدیک بےوفائی سے عبارت ہے۔ ذیشان بھی اگرچہ تمام راستہ خاموشی سے سگریٹ پیتا رہا تھا مگرماہین کو گاڑی سے نیچے اُتارنے کے بعد واپس آواز دے کر سمجھانا نہیں بھولا تھا کہ اگر زندہ رہنا چاہتی ہے تو پولیس سے بچ کر رہے ورنہ اُس کے خلاف درج ہو چکے کیس کا نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ بس وہی ایک لمحہ تھا کہ جب ذیشان کے چہرے کی سفاکیت ذرا سی ماند پڑی لیکن نجانے کیوں ماہین کو اُس کا یہ رُوپ اچھا نہ لگا۔ وہ اُس کے ہاتھوں پولیس مقابلے میں اُس کی اکاونویں مقتول ہونے کو تو تیار تھی مگر اُس کے چہرے کی سفاکیت کے ماند پڑنے پر کسی صورت بھی راضی نہیں تھی۔ وہ پہلی نظر ہی میں جان چکی تھی کہ اِسی سفاکیت اور اِسی کڑک دھڑک کے نتیجے میں تو ذیشان کی ستواں ناک برچھی بن کر عورتوں کے دل میں اُتر جایا کرتی تھی۔

جب ایک فن کار کمال کو پہنچتا ہے تو وہ جو فن پارہ تخلیق کرتا ہے وہ اس فن کار سے علیحدہ اپنا تشخص اختیار کر لیتا ہے۔ اس مقام پر فن کار اور فن پارہ دو لوگ ہو جاتے ہیں۔ فن پارے کے کردار آزاد ہو جاتے ہیں، ان کی بود و باش، مزاج اور شخصیت فن کار کی قید سے نکل جاتے ہیں۔ اس کی بستیاں اپنے فطری ارتقا سے متنوع اور منفرد ساخت اختیار کرتی ہیں، فن پارے کا ماحول اور اس کی ثقافت اس کی اپنی ہوتی ہے۔ اس منزل پر وہ فن کار کے بجائے ایک قاری، ایک ناظر، ایک تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں فن کار کرداروں کی فطرت اور مزاج کا تابع بن کر رہ جاتا ہے۔ اس لطیف مقامِ تخلیق تک خوش نصیب مہا فن کار ہی پہنچ پاتے ہیں۔ وہ مقام جہاں تخلیق کار چھو کر مٹی کے باوے زندہ کر دے، سیاہ و سفید الفاظ میں بکھری دُنیا کو رنگین گُل و گُل زار کر دے، اوراق میں لپٹی خاموشی کو زبان دے دے اور قاری کو ایک جہانِ رنگ و بُو کے بیچ لا کھڑا کرے، اس مقام پر گاہے تخلیق کار کی ذات کا پَرتو تخلیق پر پڑتا ہے اور گاہے تخلیق کا رنگ خالقِ فن پر اُترتا ہے، البتہ گاہے گاہے، کہ یہ دو مختلف لوگ ہوتے ہیں۔ علی اکبر ناطق کے تخلیق وفور کے سرکش، سر پٹکتے، اُچھلتے، چھینٹیں اُڑاتے دریا نے ’’کماری والا‘‘ کی تخلیق کے بعد ایک پُرسکون، لامتناہی، گہرے، بھید بھرے سمندر کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس ناول نے اسے اُردو ادب کے ان چند اعلیٰ ادیبوں میں شامل کر دیا ہے جو مذکورہ لطیف مقامِ کمال تک جاتی راہ کے قافلے کے مسافر ہیں، وہی مقام جہاں فن پارہ فن کار کی قید سے آزاد ہو کر ضوفشاں ستارہ بن جاتا ہے۔

Pakistan has come to be defined exclusively in terms of its struggle with terror

give us a brilliantly faithful edition of this classic novel

Pages: 707

Shikariyat Ki Naqabal E Faramosh Dastanien ( Part 1 ) - شکاریات کی ناقابل فراموش داستانیں Amrata Pretum خود ماہین نے بھی اتنےPages: 690 Category: Short Stories , Shikaryat, Zinda Kitabain

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products