یہ کہانی اس عورت کی بھی ہے جس نے سن ساٹھ کے ان چینیوں کو دیکھاتھا جو کراچی کی بلند و بالا عمارتوں کو دیکھ کر کہتے تھے کاش ہمارے پاس بھی کراچی جیسا ایک شہر ہوتا اور اب چین کی عظمت کو اپنی بوڑھی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اور ہمیں دکھا رہی ہے؛ ان دو آنسوؤں کے ساتھ جو آنکھوں سے ٹپک کر گالوں پر پھسل رہے ہیں۔
ہرکور اور کنٹھی کے گاؤں دناگری پہاڑ کے دامن میں ایک دوسرے سے چند میل کے فاصلے پر تھے۔ دونوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو تب دیکھا جب دونوں رشتہ داروں اور دوستوں کے مجمع میں دلہا دلہن بنے۔ یہ دن ان کی یادداشت میں ہمیشہ یاد رہے گا کہ اس روز انہوں نے حلوہ پوری اتنی زیادہ کھائی کہ ان کے ننھے ننھے پیٹ پھٹنے کو آ گئے۔ یہ دن ان کے باپوں اور گاؤں کے بنیوں کو بھی ہمیشہ یاد رہے گا کہ بنیئے نے، جوکہ ان کا مائی باپ ہے، اُن کی مجبوری کو سمجھا اور چند روپے قرض دیئے۔ ان روپوں کی مدد سے ہی وہ اپنے بچوں کی شادی اس عمر میں کرنے کے قابل ہوئے کہ جس عمر میں بچوں کی شادی ہو جانی چاہیئے۔ اس خوش نصیب دن کا انتخاب گاؤں کے پنڈت نے کیا۔ بنیئے نے اپنے رجسٹر میں ان کے نام درج کر دیئے۔ بے شک پچاس فیصد سود بہت مہنگا تھا لیکن اس کی ادائیگی بھی لازمی تھی کہ دیگر بچے بھی جلد ہی شادی کی عمر کو پہنچنے والے تھے۔ ان کی بار بھی بنیا ہی کام آتا۔
revenue records and vernacular literature and
امرتا نے سب سے پہلا خط جو میرے نام لکھا، وہ صرف ایک سطر کا تھا۔ وہ مجھے بمبئی میں موصول ہوا تھا، جب میں شمع اور دہلی کو چھوڑ کر گورودت کے ساتھ کام کرنے کے لیے وہاں گیا تھا وہ ایک سطر یہ تھی ’’بمبئی اپنے آرٹسٹ کو خوش آمدید کہتی ہے۔‘‘ اس خط میں امرتا نے مجھے کسی نام سے مخاطب کیا تھا اور نہ اپنا نام لکھا تھا۔ جس دن وہ خط مجھے بمبئی میں ملا اس دن مجھے لگا تھا، جیسے امرتا کے وجود کا نام بمبئی بھی ہو۔میں امرتا کو بہت سے ناموں سے بلاتا آرہا ہوں، بلاتا ہوں۔ آشی سے لے کر ’’برکتے‘‘ تک کئی نام ہیں مجھے جو بھی خوبصورت لگتا ہے، اسی نام سے میں اسے پکارنے لگتا ہوں۔ جو بھی مجھے مؤثر لگتا ہے، وہی اس کا نام رکھ دیتا ہوں۔ یوں تو گھر میں، رسوئی میں اسے ’’برکتے‘‘ ہی کہہ کر بلاتا ہوں۔ وہ واقعی میری برکت ہے۔ طبیعت کی افتاد سے میں ملازمت نہیں کر سکتا۔ اپنے کاروبار میں کبھی کبھی کم کام بھی ہو جاتا ہے، مگر میں نے کبھی کوئی کمی محسوس نہیں کی۔ برکتے کا لمس پاکر میرا تھوڑا بھی بہت ہو جاتا ہے۔ یہ سبھی خطوط میرا سرمایہ ہیں اور میری دانست میں امرتا کی خود گزشت ’’رسیدی ٹکٹ‘‘ کا ایک حصہ
I have read with interest and profit Dr Kazimi’s book on the life of Liaquat Ali Khan and congratulate him on a study that adds considerably to our understanding of Pakistan’s prehistory
Shikariyat Ki Naqabal E Faramosh Dastanien (Part 6) - شکاریات کی ناقابل فراموش داستانیں game changer یہ کہانی اس عورت کیPages: 516 Category: Short Stories,Rashid Ashraf, Zinda Kitabain