Pages: 343+319 - Complete 2 Parts
ہم سب داخلی دنیا رکھتے ہیں ،اوراس داخلی دنیا کا ربط ضبط اس دنیا سے مسلسل رہتا ہے، جسے کارل پاپر تیسری دنیا کہتا ہے،اور کین ولبر (Ken Wilber)اجتماعی داخلی (Collective Interior) کہتا ہے۔ سادہ لفظوں میں وہ سب کتابیں ، متون جوآدمیوں کی داخلی دنیاؤں کی پیداوار ہیں، مگر جو وجود میں آنے کے بعد ایک الگ وجود کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں،اور بہ طور وجود ہی دوسری کتب سے رشتے میں بند ھ جاتی ہیں ، ہم انسانوں کی داخلی دنیا، کتب و متون کی اس دنیا سے ربط ضبط ہی نہیں رکھتی ، بلکہ اس کی وسعت، تنوع کے ساتھ ساتھ اس کے سوالوں کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ وہ کتب ومتون کی اس دنیا کی کتنی سیر کرتی ہے،اور اس دنیا کے سوالوں کوکتنا سنجیدہ تصور کرتی ہے۔بعض لوگ ساری عمر محض شخصی سوالوں سے الجھتے گزاردیتے ہیں۔ان کے لیے کتب ومتون کی دنیا کے سوال اہمیت نہیں رکھتے۔ ایک مصنف پر مکمل کتاب اسی وقت لکھی جاسکتی ہے، جب ایک چنگاری اگر شخصی سوال کی ہے تو کئی انگار، کتب ومتون کی دنیا کے ہوں۔آدمی اگر اجتماعی داخلی دنیا سے غافل رہے تو پھر اس کے پاس اپنے چند الجھے جذبات، اندیشے اور پچھتاوے ہی بچ رہتے ہیں۔
عامر خاکوانی ان لکھنے والوں میں سے ہیں جن کا میں شروع ہی سے مداح رہا ہوں اور سچّی بات یہ ہے کہ ان کے کالم کا میں ہمیشہ انتظار کرتا ہوں۔ ان کے لیے میرے ذہن میں یہی تاثر ہے کہ یہ شخص بیش بہا پڑھتا ہے اور پڑھنے کے بعد اسے اتنے اختصار کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ کمال ہوجاتا ہے۔ یہی عامر خاکوانی کی تحریر کا حُسن ہے۔ میں کبھی کبھی کوشش کرتا ہوں کہ کاش میں بھی ایسی خوب صورتی کے ساتھ لکھ سکتا اور اتنے اختصار کے ساتھ اتنی زیادہ معلومات قارئین تک پہنچا سکتا۔
مزاحیہ شاعری کا سب سے کٹھن اور فیصلہ کن ٹیسٹ مشاعرہ سمجھا جاتا ہے۔ جن آنکھوں نے انور مسعود کو اندرون و بیرون ملک مشاعرے لوٹتے اور تقریباً سارا کلام سنانے کے بعد بھی مزید قطعات کی فرمائشوں کے جواب میں اپنے دلآویز انداز میں مسکراتے اور آداب کرتے دیکھا ہے، اُنھیں ان کے مزاح کی کاٹ، سادگی اور قبولِ عام کا کوئی اور ثبوت درکار نہیں۔
اردومیں اگر کوئی شعبہ بری طرح نظرانداز ہوا ہے تووہ لسانیات ہے۔ اس پرہمہ وقتی تحقیق کا کوئی ایک ادارہ بھی موجود نہیں۔ جامعات میں اس کی تدریس کا تھوڑا بہت اہتمام ضرور ہے۔ بایں وجہ اردو میں لسانیات پر گنی چنی کتب ہی ملتی ہیں اوران میں سے اکثرکئی دہائیوں پہلے کی تحقیق اورتصورات کو پیش کرتی ہیں۔ ایسے میں محمد شیرازدستی و دیگر کی لسانیات کے بنیادی تصورات پریہ کتاب خاص اہمیت کی حامل ہے۔ اس میں نہ صرف لسانیات کے اساسی مباحث، ان کی تازہ ترین توجیہات اورمعاصرتحقیقات کو اختصارمگرجامعیت سے پیش کیا گیا ہے بلکہ اسے سہل اوررواں اسلوب میں لکھا گیا ہے۔ اس کتاب سے صرف لسانیات کے طلبہ ہی نہیں، اساتذہ اورعام قارئین بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔
Nannhe Muqarrir - ننھے مقرر Salabe ishq Pages: 343+319 - Complete 2Pages: 216 Category: Children books, Debate Learning