Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
EUR750.00 EUR788.00

Pay in 4 interest-free payments of $187.50 Learn more

Sham Ki Haveli Main - شام کی حویلی میں movies 2012ءمیں شائع ہونے والی اپنی

SKU: 55768238047
4.7

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 2 - Sep 7

Description

2012ءمیں شائع ہونے والی اپنی کتاب کے دیباچے میں عرض کیا تھا: عامر خاکوانی میرے پسندیدہ کالم نگار ہیں ،اب بھی ہیں۔ اگرچہ کچھ تنقیدی نکات ہیں مگر واقعہ یہ ہے کہ جس انشراح سے عامر خاکوانی لکھتے ہیں عصری صحافت میں اس کی مثال کم ہو گی۔ سوچ سمجھ کر طے کیا گیا مؤقف، رواں اور بے ریا لہجہ۔ غیر جانبداری مگر دکھاوے کی نہیں۔ نقطۂ نظر اور عقیدہ رکھتے ہیں مگر لازماً کسی گروہ کے حامی یا مخالف نہیں۔ آزادمصنف کی روش یہی ہوتی ہے۔ یہ تحریر یں پڑھتے ہوئے والٹیئر یاد آتا ہے ، جس نے کہا تھا، "Every word of a writer is an act of generosity" لکھنے والے کا ہر لفظ سخاوت کا مظہر ہوتاہے ۔ جی جان سے ، خلوصِ قلب سے کی جانے والی عنایت ۔ شرط یہ کہ وہ دل صداقت کا مسکن ہو ، تلاشِ حق کا آرزومند

سر سید احمد خاں (1817ء -1898ء) دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے خاندان کا قدیمی تعلق مغل دربار کے ساتھ تھا اور اُنھیں جواد الدولہ اور عارفِ جنگ کے شاہی خطابات عطا ہوئے۔ 1837ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازم ہوئے اور 1867ء میں چھوٹے مقدمات کے لیے جج مقرر کیے گئے۔ 1876ء میں ریٹائر ہوئے اور باقی زندگی علی گڑھ میں گزاری۔ غدر 1857ء کے دوران حکومت کے وفادار رہے اور انگریزوں کی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بغاوت کا زور ٹوٹا تو اُنھوں نے پہلے ’’تاریخِ سرکشیِ بجنور‘‘ لکھی اور پھر ’’اسبابِ سرکشیِ ہندوستان کا جواب مضمون‘‘ لکھا جو ’’اسبابِ بغاوتِ ہند ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ اِس رسالے میں اُنھوں نے بغاوت کے پانچ اسبا ب لکھے اور رعایا کی غلط فہمی کے سوا باقی چاروں اسباب کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیا۔ اِس رسالے نے ہندوستان میں حکومت اور عوام دونوں کو بہت فائدہ دیا اور یہ بہت بڑی سیاسی خدمت ہے جو اُنھوں نے ہندوستانی رعایا اور خصوصًا مسلمانوں کے لیے کی۔ انگریزوں نے اِس کے کئی ترجمے کرائے اور یہ برطانوی پارلیمنٹ میں خوب زیرِ بحث رہا۔ سر سید نے 1859ء میں مراد آباد میں گلشن سکول، 1863ء میں غازی پور میں وکٹوریہ سکول اور 1864ء میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کی اور 1875ء میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج بنایا۔ یہ کالج جو ترقی کرکے مسلم یونیورسٹی بنا، مسلمانوں کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں ایک ایسا سنگِ میل ہے جو مستقبل کے لیے تعمیری سوچ اور فکر کا استعارہ ہے۔ سر سید اِس ذہن کے بنیاد گزار تھے کہ رعایا کو حکومت کے ساتھ مخلص ہونا چاہیے۔ وہ عملی انسان تھے اور اُنھوں نے شاہ ولی اللہ کی طرح مذہب کو روحانیت کے ساتھ مربوط کیا۔ مسلمانوں کی پولیٹکل، سوشل اور لٹریری ریفارمیشن کے لیے سر سید کا کام نہایت دور رس اثرات کا حامل ہے۔ 1888ء میں اُنھیں سر کا خطاب دیا گیا۔ سر سید کا ساری زندگی صحافت و اشاعتِ کتب اور لکھنے پڑھنے سے واسطہ رہا۔ اُن کی اہم کتابوں میں خطباتِ احمدیہ، تفسیر القرآن، بائبل کی تفسیر تبیین الکلام اور اسبابِ بغاوتِ ہند سمیت جلاء القلوب، تحفۂ حسن، کلمۃ الحق، راہِ سنت در ردِ بدعت، نمیقہ، طعامِ اہلِ کتاب، ترقیم فی قصہ اصحاب الکہف والرقیم، رسالہ اِبطالِ غلامی اور تحریر فی اصول التفسیر وغیرہ شامل ہیں۔

Stockholm University and Honorary Senior Fellow

A graduate of the Executive Development Program—jointly sponsored by Harvard

اس کی انگلی پکڑ کے ۔ تدبیر سے تقدیر سے بدلتا بھی ہے رستہ

Sham Ki Haveli Main - شام کی حویلی میں movies 2012ءمیں شائع ہونے والی اپنیPages: 600 Category: Novels

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products