Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD600.00 USD642.00

Pay in 4 interest-free payments of $150.00 Learn more

Husnul Maab Aur - حسن الماب اور talqeen shah اسد محمد خان

SKU: 44093579677
4.1

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 2 - Sep 7

Description

اسد محمد خان

and a successful doctoral candidate and visiting professor at Harvard Law School

Carmine Gallo has broken down hundreds of TED talks and interviewed the most popular TED presenters

راجہ انور غضب کا لکھاری ہے۔ اس کی تحریر میں بَلا کی رعنائی ہے اور ایسی گرفت کہ پڑھنے والا اس کے سحر سے نکل ہی نہیں سکتا۔ وہ نہایت عمدہ خاکہ نگار بھی ہے۔ کہیں کہیں وہ شگفتگی سے کام لیتا ہے تاکہ پُلِ چرخی کے تذکرے سے قاری کے اعصاب نہ چٹخنے لگیں اور کہیں اُس کی تحریر میں ایسا درد بھر جاتا ہے کہ قاری کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ___ عرفان صدیقی

میں اقتدار میں آ گئے۔ چھ سالہ اقتدار کے بعد انھیں ان کے اپنے منتخب کردہ آرمی چیف جنرل ضیاءالحق نے رُخصت کر دیا۔ عالی نسب ’’بھٹو‘‘ اور ’’معمولی‘‘‘ ضیاء الحق کے درمیان اس ٹکراؤ کو راجہ انور نے بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ بھٹو نے اپنے ساتھیوں کی مخالفت کے باوجود ضیا کو چھ جرنیلوں پہ ترقی دے کرآرمی چیف بنایا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ ضیا سیدھا سادہ شخص ہے۔ اسے آسانی سے استعمال کیا جا سکتاہے وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ ’’نئے پاکستان‘‘ میں فوج مرکزی سیاسی ادارہ بن چکی ہے۔ بنگلہ دیش میں فوج کی ناکامی کے بعد اسے کم کیا جا سکتا تھا۔ اس کے کردار اور سرگرمیوں کو تبدیل کیاجا سکتا تھا۔ اس کا بجٹ آدھا کر کے یہ رقم عوام کے روٹی، کپڑا اور مکان کے لیے استعمال میں لائی جا سکتی تھی لیکن بھٹو نے ایسا کچھ نہ کیا حالانکہ وہ اکلوتے سیاسی رہنما تھے جنھیں وسیع تر عوامی حمایت حاصل تھی اور وہ ایسا کرنے پر قادر تھے۔ لیکن ان کا خیال تھا کہ وہ جرنیلوں کو ایک دوسرے کے خلاف اُلجھا کر اپنا اقتدار ہمیشہ ہمیشہ برقرار رکھ سکیں گے۔ راجہ انور نے اپنا آپ بھٹو کے حوالے کر دیا اوران کی حکومت میں مشیر بن گیا۔ جب معمولی شخصیت کے جنرل ضیا نے بھٹو کو اقتدارسے باہر کیا تو راجہ انور بھی ’’اجڑ‘‘ کر رہ گیا۔ مایوسی کے عالم میں اس نے مرتضیٰ بھٹو کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔مرتضیٰ ذوالفقار علی بھٹو کابڑا بیٹا تھا اور اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ جلاو طنی کی زندگی گزار رہا تھا۔ پھر جو کچھ ہوا یہ کتاب اس کا خوبصورت اظہار ہے۔ جو لوگ مرتضیٰ کی ’’دہشت گرد تنظیم‘‘ کی کارروائیوں سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ کتاب بھر پور دلچسپی اور توجہ کا سامان رکھتی ہے۔ الذوالفقار کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے نوجوانوں کی اکثریت ذوالفقار علی بھٹو کی فریفتہ، نظریاتی اور جراَت مند تھی۔ لیکن ان کا لیڈر بھٹو کا بیٹا تھا جو پُرشکوہ فریب کا شکار لیکن اپنے پیروکاروں کی زندگیوں سے بے نیاز تھا۔ چونکہ ضیا کی پشت پہ مغرب تھا چنانچہ مرتضیٰ نے کابل، ماسکو، دمشق اور نئی دہلی کے حکام کا رُخ کیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مکیاولی کی رُوح اس تمام تر کارروائی پہ سایہ فگن رہی۔ مضحکہ خیز ڈھونگ اور المیے ’’دہشت گرد شہزادے‘‘ کی داستان میں چاہے اور اَن چاہے ساتھیوں کی طرح موجود ہیں۔ راجہ انور کی کہانی سرد جنگ کے ہنگامہ خیزمحاذ ہندو کش سے نکل کر شام اور لیبیا کے گوریلا کیمپوں میں پہنچتے ہوئے ہمیں غیر معمولی قسم کے کرداروں سے متعارف کراتی ہے۔ ان میں تجاہلِ عارفانہ برتنے والے سیاستدان، عیار انٹیلی جنس سربراہ، نظریاتی ٹھگ، رئیس سوداگر اور فریب خوردہ کسان لڑکے شامل ہیں۔ مجموعی طور پر بھٹو خاندان اور اس کے پیروکاروں کی کہانی

Husnul Maab Aur - حسن الماب اور talqeen shah اسد محمد خانPages: 592 Category: Novels

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products