Unchas Din - انچاس دن oxfo اصل مبارک تو جناب انور
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 31 - Sep 5
Pay in 4 interest-free payments of $68.75 Learn more
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 31 - Sep 5
اصل مبارک تو جناب انور مسعود کو دینی چاہیے ____ محمد اظہارالحق اس مجموعے میں جو کچھ بھی ہے وہ نہ تو خالص صحافیانہ اُبال ہے، نہ ہی مکمل کلاسیکی کہانی کاری اور نہ ہی فالتو کی پرکاری۔ جو کچھ لکھاری نے جہاں ہے اور جیسا ہے کی بنیاد پر جس طرح سمجھا اور محسوس کیا اضافی کلی پھندنے لگائے بغیر کتاب بند کر دیا۔ ملاوٹ کے اس دور میں اگر آپ کوئی خالص شے ہضم کرنا برداشت کر سکتے ہیں تب تو اس مجموعے کو خرید کے سکون سے پڑھیے اور جملہ در جملہ آنند لیجیے۔ ورنہ مروّت کے جال سے بچتے ہوئے حسبِ معمول سامنے سے گزر جائیے گا ____ وسعت اللّٰہ خان عمار مسعود کی تحریر میں روانی کے ساتھ ساتھ سادگی اور جذبات بھی ہیں اور یہ وہ خوبی ہے جو پاکستانی لکھاریوں میں ختم ہوتی چلی جا رہی ہے، ہماری تحریر میں اگر روانی ہوتی ہے تو سادگی اور جذبات نہیں ہوتے اور ہم اگر سادگی پیدا کر لیں تو تحریر رواں نہیں رہتی اور اگر ہم جذبات پیدا کر لیں تو تحریر کی بےساختگی اور روانی فوت ہو جاتی ہے، عمار مسعود میں یہ تینوں خوبیاں ایک ہی جگہ موجود ہیں اور یہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر خصوصی مہربانی ہے ____ جاوید چودھری
Pages: 343
درجن بھر کہانی کتابوں کے پاکستانی مصنف ممتاز ادیب ڈاکٹر ابدال بیلاکا یہ ناول اردوادب کا ایسا شاہکار ہے جواشاعت کے پہلے دن سے سیدھاکلاسیکل ادب کا حصہ بن رہا ہے ۔ دلچسپ ایسا کہ پڑھنے والے کو پکڑ کے بیٹھ جاۓ ۔ مجال ہے جوکوئی اسے پڑھناشروع کرے اورختم کیے بغیر دم لے لے۔ایک جام جہاں نما ہے ۔ موضوعات کی رنگارنگی ، نہ بھولنے والے کردار آرائش تشبیہات منظرکشی اور کمال جزئیات نگاری ۔ مہمات معلومات حسن ومحبت فلسفۂ تصوف اور انسانی نفسیات ۔ زندگی کا کونسارنگ ہے جوابدال بیلا نے نہ برتا ہو۔ انداز سیدھادل میں اترنے والا ہے ۔ ترکیب انوکھی کہ ایک نہیں کئی زمانوں میں بات کی گئی ہے۔ ایک طرف برٹش انڈیا اورقبل کی طلسماتی فضا ہے۔ساتھ آج کی دلفریب دنیا۔کہیں’’صاحباں‘‘طوائف کی ہوش رہائی ہے،کہیں’’سائیں بگوشا‘‘ کا دلوں پر راج ۔ کہیں’’رانی چان کور‘‘ کی راجیہ ہے کہیں ’’میم صاحب‘‘ کا سنہراذکر ’’ارمیلا‘ کے ساتھ ہیجان انگیز ٹرین کا سفر ہے تو کہیں’نا نگا‘‘ برما کا عفریت ۔ دیوارام کا اندھا بے بس قتل ہے تو کہیں’’ڈاکو بھگت سنگ‘ کی کبیر جگتی۔ ’’لال خان‘‘ سے ’’دہلی کی آخری کہانی تک ‘‘ غالب کے عہد کاحسن ثقافت ہے تو سیستان کے قصے بھی ۔’’ ہرنس کور‘ کی لائی لال آندھی ہے تو و ہیں’’گملوں والی حویلی‘‘ کی اداس داستان بھی ۔اتنی کہانیوں کا ہجوم ہے پھر بھی ہر کردار ہر کہانی ہر واقعہ ہیرے کی کنی سے تراشا تیکھا اور نا قابل فراموش ۔
علی اکبر ناطق کے بارے میں اب یہ حکم لگانا مشکل ہو گیا ہے کہ جدید شعر میں ان کی اگلی منزل آگے کہاں تک جائے گی کہ ہر بار وہ پہلے سے زیادہ چونکاتے ہیں۔ اُن کے پہلے کلام میں تازگی اور میرا جی کی سی قوت اور داخلیت تھی۔ روایت اور تاریخ کا شعور بھی حیرت زدہ کرنے والا تھا۔ اب کے کلام میں لہجہ جدید نظم کے کلاسک شعرا سے بالکل الگ بھی ہے، نیا بھی ہے اور جوش درد سے بھی بھرا ہوا ہے اور صرف اور صرف اُن کا اپنا ہے، اس سے پہلے ایسی روایت موجود نہیں ہے۔ محبت کی باتیں بہت ہیں لیکن اُن میں زیاں اور ضرر کا احساس بھی زیادہ ہے۔ لہجہ پیغمبرانہ ہے۔ نظم کا بہائو اور آہنگ کی روانی ایسی ہے کہ حیرت پر حیرت ہوتی ہے، خاص کر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس وقت ان کے کلام پر پنجابی کا اثر عام سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود یہ پیوند بہت ہی اچھے لگتے ہیں۔ اس مجموعے کی نظمیں ہماری جدید شاعری کے لیے ایک مطلق نئی چنوتی لے کر آئی ہیں۔ اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے۔ شمس الرحمٰن فاروقی الٰہ آباد علی اکبر ناطق کی لگ بھگ ہر نظم سننے کے بعد جب بھی یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید اِس نے اپنے اظہار کی معراج حاصل کر لی ہے اور اِس سے آگے بڑھنا نا ممکن ہو گا ،وہ اگلی ہی نظم میں ایک نیا راستہ اختیارکر کے نئے سفر پر گامزن ہو جاتا ہے ۔ اِس کی مثال کے لیے ’’یاقوت کے ورق‘‘ میں شامل سفیرِ لیلیٰ دیکھیے جو اپنی اُٹھان کے لحاظ سے زمانۂ قبل از اسلام کے سبع معلقات کی یاد دلاتی ہے اور اِس کے بعد زیرِ نظر مجموعے میں دیسی رنگ ڈھنگ کی نظمیں دیکھیں۔ یقین کرنا مشکل ہو گا کہ یہ ایک ہی شاعر کی تخلیقات ہیں۔ نثر کے برعکس اِ س کی شاعری میں مابعد الطبیعاتی پہلو بہت نمایاں ہے۔ ناطق کی نظم کا بیج مٹی میں ضرور ہوتا ہے لیکن نظم اُوپر اور اُوپر اُٹھتے اُٹھتے جاودانی آسمان کی وسعتوں سے ہم آہنگ ہو کر آفاقی اسطورہ بن جاتی ہے جسے آپ غیرفانی اساطیر کے پہلو میں دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے ایک اعزاز رہا ہے کہ میں پچھلے دس برس سے علی اکبر ناطق کی تقریباً ہر نئی نظم کا اوّلین سامع رہا ہوں، اِس کے باوجود کم ہی ایسا ہوا ہے کہ اُس کی نئی کاوش سنتے وقت دل میں یہ سوال پیدا نہ ہو کہ اِس شخص کی تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی تھاہ ہے بھی کہ نہیں ۔ زیف سید اسلام آباد میرؔ نے اکیسویں صدی میں جس ہرے بھرے اور شفاف قالب میں ٹھکانہ کیا ہے، اسے آپ ہم علی اکبر ناطق کے نام سے پہچانتے ہیں۔ ناطق کے شعر کا حال صبا ایسا لطیف اور آبشار جیسا نظیف ہو چلا ہے
The book does not restrict itself to being a catalog of political follies and historical fallacies but also offers multiple solutions that could help reinvigorate our fast-eroding cultural and political commons and possibly reverse the engulfing tide of social entropy
Unchas Din - انچاس دن oxfo اصل مبارک تو جناب انورPages: 248 Category: Novel
US$ 22.00
US$ 40.00
US$ 12.00
US$ 30.00