فرانس اور رُوسی ادیبوں کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے انیسویں صدی میں جو ادب تخلیق کیا وہ آج بھی دو سو برسوں بعد دُنیا بھر کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ اس دَور کے لکھے ہوئے شاہکار آج بھی کلاسیک کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان ادیبوں اور ان کی تحریروں سے لوگوں کی محبّت کم نہیں ہوئی۔ آج بھی ٹالسٹائی کا "War and Peace" ہو یا وکٹر ہیوگو کا "Les Miserables" یا پھر دستویفسکی کا ’’برادرز کرامازوف‘‘ ، دُنیا کے بڑے ناولز میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔
Selection Procedure + Fully Solved Papers
7) Lord Edgware Dies
حِصّہ دوم متفرق مضامین پرمشتمل ہے۔یہ مضامین انگریزی تحریروں کےتراجم پرمشتمل ہیں۔ان مضامین میں ایک مضمون معروف ترک سیاست دان اور ادیب نامک کمال زیبک کا تحریر کردہ ہے، ایک مضمون معروف ترک ادیب اور سلسلہ مولویہ کے درویش بزرگ کبیر حلے مینسکی کے زائیدہ فکر سے ہے اور ایک مقالہ این میری شمل کا قلم بند کیا ہوا ہے۔این میری شمل کے مقالے میں بہت سی غیرمتعلقہ تفصیلات تھیں جنھیں ترجمہ میں شامل نہیں کیا گیا۔اِس ترجمے کوترجمہ سے زیادہ ترجمانی کی کوشش سمجھا جائے۔اس مضمون کا ترجمہ کرتے ہوئے عبارت سے زیادہ مفہوم کو مقدم رکھا گیا ہے ۔
Constitutional Amendments introduced from time to time
Mother Ilmi Aur Adabi Pehloo) By Muhammad Ikram Chughtai فرانس اور رُوسی ادیبوں کوPages: 386 Category: English 1907. Maxim Gorky, pseudonym of Alexei Maksimovich Peshkov, Soviet novelist, playwright and essayist, who was a founder of social realism. Although known principally as a writer, he was closely associated with the tumultuous revolutionary period of his own country. The Mother, one of his best known works, is the story of the radicalization of an uneducated woman that was later taken as a model for the Socialist Realist