Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
SEK975.00 SEK1003.00

Pay in 4 interest-free payments of $243.75 Learn more

Deen O Duniya - دین و دنیا afsaany ka manzarnama اتہاسک لاہور میں اُن شخصیات

SKU: 37668494738
4.6

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 5 - Sep 10

Description

اتہاسک لاہور میں اُن شخصیات کا تذکرہ ہے جو اُردو ادب میں گراں قدر خدمات انجام دے چکی ہیں اور وفات کے بعد جن کی جائے مدفون کا اعزاز لاہور کے قبرستانوں کو حاصل ہوا۔ صرف اُردو زبان کے حوالے سے اس شہر میں بے شمار قد آور شاعر، ادیب اور صحافی مدفون ہیں ۔ اُن تمام مشاہیر کا احاطہ کرنے کے لیے شاید اس طرح کی دس کتب بھی کم ہوں ۔ اُن میں سے چنیدہ شخصیات کو اس کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ وہ شخصیات جو اس کتاب کا حصہ نہیں، وہ کسی طور بھی کسی سے کم تر ہیں۔ ہر ادیب، شاعر اور صحافی کا ایک اپنا خاص طرز تحریر اور طرز بیان ہوتا ہے۔ حضرت انسان کی تاریخ میں کوئی ایسی کسوئی ایجاد نہیں ہوئی جو تحریروں کے معیار کو جانچ سکے۔ تاریخ اس بات کی بھی شاہد ہے کہ چشم فلک نے کئی ایسے عظیم شعرا اور ادبا کو دیکھا جنھیں اُن کے اپنے عہد میں کوئی خاص پذیرائی حاصل نہ ہوئی۔ لیکن اُن حضرات کی زندگی کے بعد جب اُن کے کام کو از سر نو دیکھا گیا تو وہ ادب کی عمارت کے مضبوط ترین ستون دکھائی دیے۔ اس حوالے سے انگریزی زبان کے شاعر جان کیٹس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ غور کیجیے تو تاریخ میں کئی ایسے درباری شاعر اور ادیب بھی دکھائی دیے جو شاہ کے مصاحب تھے اور اپنے عہد کے بڑے نام لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اُن کی پہچان ختم ہوتی گئی ۔ زیر نظر کتاب کی تحقیق و تحریر میں سب سے پہلا اور اہم ترین پہلو یہ ہے کہ کئی ایسے عظیم لوگ جن کا بے پناہ اعلیٰ درجے کا کام موجود تھا، تقسیم کے بعد وہ کس طرح نئی نسل اور آنے والی نسلوں کی نظروں سے اوجھل ہوتے گئے ۔ ہمارے ہاں ایسے طلبا کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو کہ ڈگری یافتہ ہے لیکن وہ محمد دین تاثیر اور اختر شیرانی جیسے ناموں سے نابلد ہے۔ اس کتاب کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہماری نصابی کتب میں اکثر جگہوں پر یہ تحریر واضح طور پر ملتی ہے کہ جنگ آزادی یا غدر کے بعد مسلمانوں پر جدید تعلیم اور ترقی کے دروازے بند کر دیے گئے ۔ جب اُردو ادب کی تاریخ کو دیکھا جائے اور خصوصاً انیسویں اور بیسویں صدی کے ادب پر توجہ مرکوز کی جائے تو یہ سوال اپنی جگہ آن کھڑا ہوتا ہے کہ انگریز سرکار ہی کے عہد میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمان شاعر، ادیب حضرات کہاں سے آگئے ۔ کئی ایسے خاندان بھی دکھائی دیتے ہیں جن کا پس منظر انتہائی پڑھا لکھا تھا۔ منٹو کے خاندان کو بیرسٹرز کا خاندان کہا جاتا تھا۔ سید لطیف کے خاندان کو آج بھی جوں کے خاندان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سب سے اہم ترین شے مسلمانوں کا عمومی رویہ تھا۔ اس ضمن میں میں کچھ حوالہ جات ایک مسلمان انڈین سول سرونٹ شوکت علی شاہ کی آپ بیتی خیال پور کا آدم خور سے پیش کر رہا ہوں جو رہا۔

Pages: 891

“… With this book a serious effort has been made to address the need for a historical account of Murree and its environs

the pattern of government which the Quaid-i-Azam had in mind was a secular

insisting upon the principles of liberty

Deen O Duniya - دین و دنیا afsaany ka manzarnama اتہاسک لاہور میں اُن شخصیاتPages: 488 Category: Islam

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products