Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD550.00 USD577.00

Pay in 4 interest-free payments of $137.50 Learn more

Anees Aur Dabeer - انیس اور دبیر Abdullah novel مفتیانے - افسانے

SKU: 35858515906
4.5

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 26 - Aug 31

Description

مفتیانے - افسانے

ظفر محمود، کیڈٹ کالج حسن ابدال اور گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1976ء میں ڈی ایم جی، حال (PAS) گروپ سے سرکاری نوکری کا آغاز۔ ملازمت کے دوران1984ء میں مانچسٹر یونی ورسٹی، 1987ء میں آرتھر ڈی لٹل انسٹی ٹیوٹ،بوسٹن، 1989ء میں سٹیٹ ڈِپارٹمنٹ، واشنگٹن اور 2007ء میں ہارورڈ یونیورسٹی سے مزید تعلیم۔ 1992ء سے 1995ء تک استنبول میں کونسل جنرل کی ذمے داری، نوکری کے آخری دور میں چھے مختلف وفاقی وزارتوں ، ٹیکسٹائل، کامرس، پٹرولیم، کابینہ، انڈسٹری اور پانی و بجلی میں فیڈرل سیکرٹری۔ رِٹائرمنٹ کے بعد پنجاب پبلک سروس کمیشن میں چیئرمین کی تعیناتی اور واپڈا کی سربراہی۔ کالا باغ ڈیم سے متعلق حقیقتیںاجاگر کرنے کے لیے انگریزی میں "Sifting Facts from Fiction" کے عنوان سے مختلف اخباری کالموں، بعد کو اُردو میں ’’حقیقت کیا، فسانہ کیا‘‘ کتاب کی اشاعت پر حکومتِ وقت کے سیاسی بوجھ میں اضافے کے پیشِ نظر عہدے سے ازخود مستعفی۔ ظفر محمود کے ہم عصر جانتے ہیں کہ ملازمت کے دوران وہ نہ کبھی عہدوں کے اسیر رہے، نہ ان کے بے داغ کردار پر کسی نے انگشت نمائی کی ۔ کئی بار انھیں او ایس ڈی بنایا گیا۔ بنیادی طور پر وہ ایک قلم کار ہیں۔ اِسی وقفے کے دوران قلم سے اُن کا رشتہ قائم رہا اور اُن کے افسانوں کا مجموعہ ’’دائروں کے درمیاں‘‘ بھی شائع ہوا۔ ظفر صاحب کی تحریروں کا مرکز دھرتی سے جُڑے وہ لوگ ہیں جن کے گرد بےشمار نفسی و سماجی مسائل، اعتقاد و اعتماد اور ارادت مندی کی سعادت نے دائرے کھینچ دیے ہیں۔ عدم برداشت کی دیواریں اُونچی ہوتی جا رہی ہیں۔ لکھنے والے کا قلم اِرد گرد کے ماحول سے بےنیاز نہیں رہ سکتا۔ اُن کے بہ قول شاید اُن کی تحریریں بھی بڑھتے ہوئے معاشی انحطاط سے متاثر ہوں۔ زیرِ نظر کتاب میں، قارئین کو وہ چشم کشا تجربے اور ناقابلِ فراموش مشاہدے نظر آئیں گے جن سے ایک بیوروکریٹ کی حیثیت سے، اقتدار کی غلام گردشوں میں اُن کا واسطہ رہا۔ بیوروکریٹ کی زندگی ایک حیرت کدے کاسفر ہوتا ہے۔ ظفرمحمود کے ساتھ اِس سفر میں قاری کی شرکت اُس کی سوچ میں نئے دریچے وا کرتے ہوئے، معاشرے کے اُن نہاں خانوں کا پتا دیتی ہے جو دیکھتی آنکھوں کو نظر نہیں آتے۔

ع دیں ہم اندر عاشقی بالائے غمہائے دگراس سمارٹ سے مجموعے میں 13 افسانے شامل ہیں۔ یہاں فرداً فرداً افسانوں کا تجزیہ یا جائزہ لینا مشکل ہے، ماسوائے اس کے کہ مصنف کے مشاہدے کی صورتحال کیا ہے اور اس میں بیان کرنے کی طاقت اور صلاحیت کس حد تک ہے۔ علی اکبر ناطق کو جہاں زبان پر خاصا عبور حاصل ہے وہاں ان کا طرزِ بیان بھی عام فہم اور دلکش ہے اور قاری آخر تک افسانے کی گرفت میں رہتا ہے، اور یہ خوشی کی بات ہے کہ کہانی تجرید کی بھول بھلیوں سے نکل آئی ہے اور اس میں کہانی پن عود کر آیا ہے اور قاری افسانے سے باقاعدہ لطف اندوز ہونے لگا ہے بشرطیکہ یہ پھر اسی طرف واپس چلی جائے۔ علی اکبر ناطق نے جس مختصر عرصے میں اپنی پہچان قائم کی ہے اور بڑے بڑوں سے اپنا اعتراف کروایا ہے وہ خوش آئند بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔ پاکستان میں شاعری کے حوالے سے معاملات اوپر نیچے رہتے ہیں اور اپنے پائوں پر بھی کھڑے ہوتے نظر آتے ہیں، تاہم ایسا لگتا ہے کہ ز یادہ تر منظر فکشن نے سنبھال رکھا ہے اور اس کتاب کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس سعیٔ مسعود پر میں اس نوجوان کو مبارکباد پیش کرنے میں کوتاہی نہیں کرنا چاہتا

But in the real world people don't make financial decisions on a spreadsheet

This volume consisting of fourteen chapters attempts to bring together at one place the well-known prescriptions and detailed solutions to address these challenges

Anees Aur Dabeer - انیس اور دبیر Abdullah novel مفتیانے - افسانےPages: 338 Category: Urdu adab

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products