Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD600.00 USD642.00

Pay in 4 interest-free payments of $150.00 Learn more

Shora Shoree (Talqeen Shah) - شورا شوری mard ibreshum Category: Novelette

SKU: 33698014610
4.6

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 24 - Aug 29

Description

Category: Novelette

21 Lessons for the 21st Century

جب ایک فن کار کمال کو پہنچتا ہے تو وہ جو فن پارہ تخلیق کرتا ہے وہ اس فن کار سے علیحدہ اپنا تشخص اختیار کر لیتا ہے۔ اس مقام پر فن کار اور فن پارہ دو لوگ ہو جاتے ہیں۔ فن پارے کے کردار آزاد ہو جاتے ہیں، ان کی بود و باش، مزاج اور شخصیت فن کار کی قید سے نکل جاتے ہیں۔ اس کی بستیاں اپنے فطری ارتقا سے متنوع اور منفرد ساخت اختیار کرتی ہیں، فن پارے کا ماحول اور اس کی ثقافت اس کی اپنی ہوتی ہے۔ اس منزل پر وہ فن کار کے بجائے ایک قاری، ایک ناظر، ایک تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں فن کار کرداروں کی فطرت اور مزاج کا تابع بن کر رہ جاتا ہے۔ اس لطیف مقامِ تخلیق تک خوش نصیب مہا فن کار ہی پہنچ پاتے ہیں۔ وہ مقام جہاں تخلیق کار چھو کر مٹی کے باوے زندہ کر دے، سیاہ و سفید الفاظ میں بکھری دُنیا کو رنگین گُل و گُل زار کر دے، اوراق میں لپٹی خاموشی کو زبان دے دے اور قاری کو ایک جہانِ رنگ و بُو کے بیچ لا کھڑا کرے، اس مقام پر گاہے تخلیق کار کی ذات کا پَرتو تخلیق پر پڑتا ہے اور گاہے تخلیق کا رنگ خالقِ فن پر اُترتا ہے، البتہ گاہے گاہے، کہ یہ دو مختلف لوگ ہوتے ہیں۔ علی اکبر ناطق کے تخلیق وفور کے سرکش، سر پٹکتے، اُچھلتے، چھینٹیں اُڑاتے دریا نے ’’کماری والا‘‘ کی تخلیق کے بعد ایک پُرسکون، لامتناہی، گہرے، بھید بھرے سمندر کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس ناول نے اسے اُردو ادب کے ان چند اعلیٰ ادیبوں میں شامل کر دیا ہے جو مذکورہ لطیف مقامِ کمال تک جاتی راہ کے قافلے کے مسافر ہیں، وہی مقام جہاں فن پارہ فن کار کی قید سے آزاد ہو کر ضوفشاں ستارہ بن جاتا ہے۔

it is the third-largest recipient of US aid in the world

تو بس ایں چیزے دِگر است۔ سچ تو یہ ہے کہ میرے قلم میں نہ اتنی طاقت ہے اور نہ ہی وہ الفاظ کہ میں اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ہمت کر سکوں۔ کوئی ایک بات ہو تو مجھ جیسی کوتاہ قلم کے قابو آئے۔ کیا سراسر فصاحت و بلاغت، کیا گاتی گنگناتی مدھر عبارت ہے جس کی لہروں کا سارا اتار چڑھاؤ اور بدلتے تیوروں کا بیان طاہرہ کے قلم کی کرامت کہی جا سکتی ہے۔’’گراں‘‘ زندگی کے ایک ایک پل بدلتے روز و شب کے جلو میں لمحہ لمحہ بدلتی موہوم سے موہوم کیفیتوں کا بیان پوری رنگا رنگ جزئیات اور صوتی تاثرات قائم کرنا، اس انداز کی خلاقی اور تخلیقی ہنر کسی کسی کا ہی نصیب ہوتا ہے۔ ’’گراں‘‘ ناول کیا ہے ایک جیّد میموریل ہے جس میں رنگ بھرنے والی کے قلم (قلم ہے یا موقلم) نے گراں اور اس کے تناظر میں پھیلی نباتی اورحیاتی زندگی کے خفیف سے خفیف گوشے کو نظرانداز نہیں کیا۔ حد یہ کہ چویے کے ٹھہرے پانی کی تہ میں جمی کائی کی تہ سے پھوٹتے پودوں اورکناروں پر لٹکتے جالوں کے کتھئی رنگ اور لمبی لمبی ٹانگوں والے مینڈکوں کے رنگوں کو بھی نظر انداز کرنے کا کیا سوال، وہ تو مکئی اور باجرے کی گرم گرم بھاپ چھوڑتی روٹیوں پر مکھن کی سفید جھاگ سے پگھلتے رنگوں کو بھی رنگ دیتی ہیں۔ میں کہتی ہوں اس خاتون نے اپنی نوکِ قلم کے اندر کتنے پیلٹوں اور رنگ کی کتنی پیالیوں میں کیسے کیسے اور کتنے رنگ بھر رکھے ہیں۔ کبھی پھلا ہی کی لکڑی کے کوئلوں کی آگ پرجمی سفید راکھ ہے۔ کہیں کہیں مونگ پھلی کے کھیت کھودنے اور سُرخ سُرخ مٹی پر چھائی ہری ہری بیلوں کے رنگ ہیں۔ میں خود سے پوچھتی ہوں اور پھر اس تمام رنگا رنگ بُنت کے تاروپود سے بنتی اور ابھرتی ہوئی ’’گراں‘‘ زندگی کی ہمہ رنگی کہانی کو پڑھتی ہوں۔ حرکات و جزئیات کی خفیف سے خفیف کیفیت کو ایک راگ، ایک لَے، سُر اور رنگ کے ساتھ کہانی میں سراسر بغیر تکلّف یا کسی کوشش کے سموتے جانا

Shora Shoree (Talqeen Shah) - شورا شوری mard ibreshum Category: NovelettePages: 445 Category: Drama

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products