Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
PLN275.00 PLN316.00

Pay in 4 interest-free payments of $68.75 Learn more

Ghumshuda Jawani Ka Cafe - گم شدہ جوانی کا کیفے toba tek sign ایرک آرتھر بلیئر جسے دُنیا

SKU: 33374694651
4.2

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 5 - Sep 10

Description

ایرک آرتھر بلیئر جسے دُنیا جارج آرویل کے نام سے جانتی ہے، ایک انگریز صحافی، مضمون نگار اور ناول نگار تھا۔ 25 جون 1903ء میں بنگال کے شہر موتی ہاری میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش کے بعد اس کا خاندان انگلستان منتقل ہو گیا۔ اس نے ایٹن سکول سے تعلیم حاصل کی۔ انڈین امپیریل پولیس کی طرف سے برما میں پانچ سال (1922ء -1927ء) ملازمت کی۔ 1927ء میں واپس انگلستان آیا اور ملازمت چھوڑ کر پیرس چلا گیا جہاں اس نے کتابیں لکھنا شروع کیں۔ 1929-1935ء کے درمیانی عرصہ میں ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھاتا رہا اور صحافت سے منسلک رہا۔ 1935ء واپس انگلستان آ گیا۔ کچھ عرصہ پولٹری فارم اور ہوٹل چلاتا رہا۔ پھر ایک سٹور پر کام کرنے لگا۔ 1936ء میں ایلین او شہوگنیسی نامی خاتون سے شادی کی اور سپین چلا گیا۔ ایک قاتلانہ حملے میں اسے گولی لگ گئی ۔ میڈیکلی اَن فٹ ہونے کی بنا پر دوسری جنگ عظیم میں نہ لڑ سکا۔ واپس انگلستان آیا اور بی بی سی انڈیا پر خبریں پڑھتا رہا۔ جنگ کے خاتمے پر وہ ادب میں دوبارہ واپس آیا۔ اس نے ’اینیمل فارم‘‘ اور ’1984‘ ایسے ناول لکھے جنھوں نے دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ 21 جنوری 1950ء میں 46سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ اسے اس کی وصیت کے مطابق انگلستان کے ایک گاؤں کے چرچ میں دفن کیا گیا۔ 1949ء میں لکھے اپنے شہرۂ آفاق ناول ’’1984‘‘ نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اس سے پہلے کسی نے بھی ہندسوں پر مشتمل کوئی ناول نہیں لکھا تھا۔ وہ آنے والے زمانوں کا قصہ لکھ رہا تھا۔ ایک ایسا شہرِ آشوب جوکروڑوں انسانوں کی زندگی کا سچ ہونے والا تھا۔ اس ناول میں آرویل نے ایسے کئی جملے لکھے جو دُنیا کے بہت سے سوچنے اور غوروفکر کرنے والوں کی زندگی کا سچ بن گئے۔ اس نے لکھا کہ ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی اقتدار پر اس لیے قابض نہیں ہوتا کہ کچھ دنوں میں وہ اقتدار سے دستبردار ہوجائے گا۔70ء کی دہائی میں اسے امریکی صدر نکسن اور اس سے جڑے ہوئے واٹرگیٹ اسکینڈل کے تناظر میں دیکھا گیا۔ اس زمانے میں یہ ناول امریکا میں خوب خوب بکا۔ 1984 کا سال آیا تو چونکہ اس ناول کا نام اس برس سے منسوب تھا، یہی وجہ تھی کہ اس ایک برس کے دوران امریکیوں نے اس کی 40 لاکھ کاپیاں خریدیں۔

Wolpert shows how Jinnah’s shrewd and skillful leadership combined brilliant advocacy and singular tenacity to win his suit for the creation of Pakistan on behalf of the ‘Muslim nation’—his sole client during the last

the book makes a distinct contribution

This book analyses constitutional development in Pakistan from its inception to the present times

• Slice and dice the task

Ghumshuda Jawani Ka Cafe - گم شدہ جوانی کا کیفے toba tek sign ایرک آرتھر بلیئر جسے دُنیاPages: 128 Category: Novels 2014 "In The Cafe Of Lost Youth" Urdu Translation of In The Cafe of Lost Youth

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products