Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD525.00 USD555.00

Pay in 4 interest-free payments of $131.25 Learn more

Mata e Jaan Hai Tu - متاع جاں ہے تو apny log اُردو ادب کی آبرو شمس

SKU: 26696473647
4.7

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 31 - Sep 5

Description

اُردو ادب کی آبرو شمس الرحمٰن فاروقی کا کہنا ہے کہ وہ اُردو تنقید کو زبان کی خدمت سمجھ کر لکھتے رہے جب کہ شعر کہنا ایک گہری، ناقابلِ وضاحت اور ذاتی مجبوری رہی۔ اُن کی تخلیقی شخصیت کی کھوج میں نکلے ہوئوں کو بہت بعد میں خبر ہوئی کہ اُن کے تخلیقی وجود کے اندر ایک افسانہ نگار بھی ہمیشہ سے موجود رہا تھا۔ وہ اپنی ادبی حیات کے غالب حصے میں اُس سے آنکھیں چراتے رہے۔ کہیں مجبوری میں کہانی لکھنا پڑجاتی یا کسی افسانے کا ترجمہ کرنا ہوتا تو ایک فرضی مصنف تراش لیتے اور اُس کے نام سے ’’شب خون‘‘ میں چھاپ لیا کرتے، اللّٰہ اللّٰہ خیر صلا۔ شاید اس کا سبب یہ رہا ہوگا کہ جو توقیر اُنھیں تنقید میں ریاضت سے ملی تھی وہ اُس پرکسی ایسی ادبی صنف کا سایہ پڑنے نہ دینا چاہتے ہوں گے جسے وہ اپنی تنقید میں شاعری سے کم تر اور یاک جیسی سست رَو گردان چکے تھے۔ خیر، وقت نے پلٹا کھایا اورفاروقی صاحب کے قلم پر بالکل الگ نوع کے افسانے اور ناول رواں ہو گئے۔ جی، وہ افسانے اور ناول جواپنے کھوئے ہوئے تہذیبی وقار اور خود اعتمادی کو بحال کرنے کے قرینے سجھانے لگے تھے۔ کلاسیکی شعریات کو رواں زندگی کی ہماہمی کے اندر لے آنا فاروقی صاحب کا مسئلہ رہا ہے؛ زندگی بھر کا مسئلہ۔ اُن کے اندر کا شاعر بھی اِس جانب لپکتا رہا اور ناقد بھی مگر فکشن لکھتے ہوئے اِس باب میں جو کامیابی اُنھیں ملی تھی وہ بے نظیر تھی اور موثر بھی۔ فاروقی صاحب کہتے رہے تھے کہ قدیم شعریات کے ذریعے جو تناظر حاصل ہوتا ہے اس سے نئے ادب اور جدیدیت کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی لیکن یہ کیسے ممکن ہو پائے گا، ایسا اُن کے فکشن نے سجھا دیا تھا۔ اس مجموعے میںفاروقی صاحب کے افسانوں ، مختصر ناول، عالمی فکشنی ادب کے تراجم ( مدون/ غیرمدون) سب یکجا کر دیے گئے ہیں۔ شاہکار ناول ’’کئی چاند تھے سرِآسماں‘‘ کے ساتھ ’’مجموعہ شمس الرحمٰن فاروقی‘‘ کا مطالعہ اُردو فکشن کے ایسے روشن باب کا مطالعہ ہے جس کا متن سب سے الگ اور علمی، ادبی اور تہذیبی سطح پر عطا کرنے کے معاملے میں حد درجہ فیاض ہے۔

The country was ahead of India and Bangladesh in all economic and social indicators

these relations have not always been smooth but still never remained extremely rough

اللہ ربُّ العزت جب کسی پر مہربان ہوتو’’عطا‘‘کیا کرتا ہے۔ عطائے سلطان السلاطین ذوالجلال والاکرام بڑی بات ہے۔ عطا کردیا جانا، متلاشی عاصیوں کے لیے بڑے نصیبے کی بات ہوتی ہےکہ ریگ زاروں میں ہزارسال ایڑیاں رگڑی ہوتی ہیں۔ سیاہ ماتمی سوگوار روحیں بجھتی آنکھوں کے قدیم شکستہ زندانوں کی زنگ خوردہ سلاخوں سے نجانے کتنی صدیاں لپٹ کے روئی ہوتی ہیں کہ کوئی ہنر نہ کمال ہم جیسےشکستہ حال تھکے ہارے روندے ہوئے مسافروں میں ہواکرتا ہے۔

Indianisation of the Army

Mata e Jaan Hai Tu - متاع جاں ہے تو apny log اُردو ادب کی آبرو شمسPages: 304 Category: Novels

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products