Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
EUR450.00 EUR471.00

Pay in 4 interest-free payments of $112.50 Learn more

The Spirit Of Islam Abdulah by Hashim NAdem دس سے بارہ سال تک

SKU: 21141398565
4.6

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 24 - Aug 29

Description

دس سے بارہ سال تک کے بچوں لئے

ایسے میں وقت گزارنے اورطبعیتوں کو بہلانےکے لیے کسی نے کتاب سے رشتہ جوڑا توکسی نے فلموں اور ڈراموں سے۔کسی نے فیس بک میں پناہ ڈھونڈھی تو کسی نے انٹر نیٹ میں۔زندگی اگر نظر آتی بھی تھی تو صرف فیس بک پر ،بل کہ وہاں بھی خوف زَدہ خبروں اور اطلاعات کاتانتا بندھا ہوا تھا۔اسی خوف کے عالم میں پاکستان میں تُرک ڈراما سیریل " دیریلش ارطغرل" (Diriliş Ertuğrul)کا چرچہ عام ہوا،اُردو ڈبنگ ہوئی اور یہ ڈراما آن ائیر ہو گیا۔یہ شان دار ڈراما سیریل ترکوں کی تہذیب و ثقافت کا امین اور شان دار ماضی کی جھلک دکھاتا ہے۔ڈراما نشر کیا ہوا،بچوں،بوڑھوں اور جوانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ وزیراعظم عمران خان پہلے سے ہی اس ڈرامے کی اُردو ڈبنگ کے نشر کیے جانےکی نوید سنا چکے تھے۔بعد میں اُنھوں نے ایک پریس کانفرنس میں ایک اور ترک ڈراما سیریل "یونس ایمرے:محبت کا سفر" کا بھی ذکرکیا۔عوام نے پہلی بار یونس ایمرے کا نام سنا تھا اور اس کاتعلق بھی ان کے پسندیدہ موضوع یعنی محبت و انسان دوستی سے تھا۔پی ٹی وی کا انتظا رکون کرتا۔یو ٹیوب پر اس سیریل کوتلاش کیااور پھر دیکھنا شروع کیا۔جوں جوں ڈراما آگے بڑھتا گیا،ڈرامے سے ہی نہیں، یونس ایمرے کی شخصیت سے بھی دِل چسپی بڑھتی گئی۔دوسرے لفظوں میں اِس ڈرامے کے ذریعے یونس ایمرے سے روحانی رشتہ مضبوط ہوتا چلا گیا۔ انٹرنیٹ، یوٹیوب غرض جہاں سے بھی یونس ایمرے سے متعلق موادمیسر آیا،اس کو پڑھنا شروع کیا۔ایسے میں بک کارنر،جہلم کے رُوح رواں، برادرم اَمر شاہد نے خواہش ظاہر کی کہ وہ یونس ایمرے پر ایک کتاب شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یونس ایمرے کی متاثر کن شخصیت سے محبت اور عقیدت تو پہلے ہی قائم ہو چکی تھی،اب اس محبت کے عملی اظہار کا موقع بھی میسر آ گیا۔یونس ایمرے کی شخصیت سے عقیدت مندی،ان کے کلام کے اثر اوراَمر شاہدصاحب کی خواہش کے احترام میں بسم اللہ پڑھی اور کام کا ڈول ڈال دیا۔چند ماہ کا قلیل وقت اوراپنی کم مائیگی کا باربار احساس میرے ارادوں کے درمیان حائل ہوتا رہا، لیکن ہمت نہ ہاری۔مواد کی تلاش میں انٹر نیٹ اور کتاب خانوں پر دستک دی۔دوستوں سے تعاون کی درخواست کی۔امید کی شمع جلنے لگی تو اس کی روشنی میں کام کاآغاز کیا۔چل رے خامہ بسم اللہ۔

The Iliad (جنگ ٹرائے آخری ایام)

3) محاضرات سیرت ﷺ - صفحات: 626

یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ ۱۹۴۷ء میں برطانوی استعمار سے سیاسی آزادی کے فوری بعد ہم نے اپنے تعلیمی ، آئینی، انتظامی اداروں اور زبان وادب اور ثقافتی شعبوں کو استعماری اثرات سے آزاد کرانے یعنیDecolonization کی ہمہ گیر مساعی کیوں نہیں کیں؟ آزادی کی بعد کی تحریروں میں راج ، نو آبادیات، غلامی، آزادی کی تحریک اوراس کے قائدین کا ذکر تو کثرت سے ملتا ہے؛ آزادی کی صبح کے اجالے کے داغ داغ ہونے کا نوحہ بھی ملتا ہے؛ ثقافتی شناخت کے تعین کی سعی بھی ملتی ہے؛ادب کی پاکستانی شناخت کا سوال بھی ملتا ہےنیز جس استعمار سے آزادی کے لیے جدوجہد کی گئی، اس استعمار کے معاشی، ثقافتی استحصال کی نشان دہی منتشر صورت میں ملتی ہے ،مگر جن اداروں اور تصورات کے تحت یہ استحصال ممکن ہوا، ان پر کوئی باقاعدہ اور مسلسل ڈسکورس نہیں ملتا ہے۔دو ایک اردو نقادوں نے مغربی ادبی کینن کے غلبے کی طرف اشارہ ضرور کیا اور اس کی جگہ عرب و عجم یا مقامی صوفیانہ روایت کی طرف توجہ کرنے کے ضرورت کا احساس ضرور دلایا مگر استعماری اجاراہ دارانہ روشوں اور تصورات اور ہیئتوںسے نجات کی باقاعدہ عظیم تنقیدی کوشش نظر نہیں آتی۔ اس ڈسکورس کے غیر موجودگی آج ہمیں زیادہ محسوس ہوتی ہے اور کئی سوالات جنم دیتی ہے۔ کیا اس لیے کہ ہماری سیاسی مقتدرہ نے ایک مذہبی ریاست کی تعمیر کو اپنا بنیادی مقصد بنایا اور مذہبی ریاست کا وہ تصور قبول کیا، جسے ایک ’غیر ‘(the other) یعنی ہندو کے مقابلے میں وضع کیا گیا تھا؟ کیا اسی لیے آزادی کے بعد ، ہم نے اپنے ہر شعبہ ء زندگی بہ شمول زبان اور جملہ فنون کو ہندووانہ عناصر سے پاک کرنے کی کوشش کی؟ کیوں اپنے ہرشعبہ ء زندگی کو استعماری اثرات سے آزاد کرانے کے بجائے،ہم اسی استعماری عہد میں ایجاد ہونے والے دشمن کے بھوت کو ٹھکانے لگانے کی کوششوں میں مصروف رہے؟ آج ہمارے لیے یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ کیوں ہماری دانشورانہ وتخلیقی سرگرمیوں کا رخ یا تو اپنی ذہنی وتخیلی دنیا کو مذکورہ’ غیر‘ سے ’پاک کرنے ‘ کی طرف رہا (منٹو کا آزادی کے فوری بعد لکھا ہوا ’اللہ کا بڑا فضل ہے‘ یاد کیجیے)یا پھر ہجرت وبے دخلی (displacement) کو بیان کرنے اور اس کی تاریخی، مذہبی جڑیں تلاش کرنے اور گزرے زمانوں کے احیاو بازیافت کی جانب رہا؟ کیا تاریخ نے ہمارے سامنے کوئی دوسرا راستہ نہیں چھوڑا تھا ؟ بچی کچھی توانائی آمریتوں کے خلاف جھگڑنے میں صرف ہوئی۔

The Spirit Of Islam Abdulah by Hashim NAdem دس سے بارہ سال تکPages: 446 Category: English Within a few centuries after the death of Mohammed (PBUH) in A. D. 632 the Islamic creed had spread across half the world and obtained a permanent and power hold over millions of people. In this book the author traces the origins and the history of this religion. He recognizes almost for the first time in a book in the English language, its extraordinary effects in uplifting humanity and its true place in the history of

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products