Al Ghazali On Conduct In Travel urop ka arooj صاحبو
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 31 - Sep 5
Pay in 4 interest-free payments of $100.00 Learn more
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 31 - Sep 5
صاحبو
زندان خانے میں بِلکتی ہوئی زندگی کی ترجمان غالباً ستمبر 1970ء کا پہلا ہفتہ تھا کہ جیل میں اسیر طلبہ نے صبح صبح شور مچایا، ’’راجہ بھی آ رہا ہے‘‘ انھوں نے اخبار سے اس کی گرفتاری کی خبر پڑھی تھی۔ شام کو اسے بھی ہمارے ساتھ ’’سی کلاس‘‘ کی تنگ ترین کوٹھری میں دھکیل دیا گیا۔ اب تکلّف کی کوئی گنجائش باقی نہ تھی۔ جلد ہی مجھے محسوس ہوا کہ یہ شخص خاصا دل گُردے کا مالک ہے۔ غم، دُکھ اور یاسیت کے طوفان میں بھی مسکرانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ راجہ کے آنے سے صحنِ زنداں کی کلفتیں بہت ہلکی ہلکی نظر آنے لگیں۔ وہ لطیفے، ہنسی مذاق اور فقرہ بازی کا ماہر ہے۔ ہم پانچ آدمی اس مختصر سی جگہ پر سوتے۔ راجہ موم بتّی جلا کر رات رات کراہتی ہوئی زندگی کے مختلف پہلو قلم بند کرتا۔ اس کتاب کی بہت ساری یادداشتیں میرے سامنے لکھی گئیں اور بہت سے ایسے واقعات جہاں زبان ترجمانی نہیں کر پاتی، اس نے خونِ جگر میں اُنگلیاں ڈبو کر لکھے اور شاید یہ اسی کا حصّہ تھا۔ وہ اپنے حُلیے سے چی گویرا بھی لگتا ہے اور ہپی بھی، کبھی کبھی مولوی اور اکثر فلاسفروں کی طرح بھی دکھائی دیتا ہے۔ وہ طالبِ علم بھی ہے، ادیب بھی اورمقرّر بھی۔ دُشمنوں کے لیے وبالِ جان اور دوستوں کے لیے ’’جند جان‘‘ لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ انتہائی حسّاس آدمی ہے۔ ’’راجہ بہت اچھا لکھتا ہے‘‘ میں یہ نہیں کہوں گا۔ اس کا فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔ اگر میں نے کچھ کہا تو آپ شاید ’’دوست نوازی‘‘ کا فتویٰ عائد کر دیں۔ بہرحال میں جانتا ہوں کہ آپ کا فیصلہ راجہ کے حق میں ہو گا۔ شبِ زنداں کی عکاسی ہر فرد کے بس کا روگ نہیں کیونکہ اس کٹھن راہ میں کئی مقام ایسے بھی ہیں جہاں مروجہ زبان محسوسات کی ترجمانی نہیں کر پاتی۔ تاہم راجہ نے اپنی حسّاس طبیعت کے باعث اس ماحول کے دُکھوں کو بہت قریب سے محسوس کیا ہے۔ یہ کتاب زندان خانے میں بِلکتی ہوئی زندگی کی ترجمان ہے۔ جیل پر اس سے پہلے بھی بہت کچھ لکھا گیا لیکن مجھے یہ کہنے دیجیے کہ راجہ کی یہ درد بھری تصنیف اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ معراج محمد خان (نامور سوشلسٹ، دانشور اور فلسفی)
Boston University
حفیظ خان، فطرت و نفسیات اور بالخصوص نسوانی نفسیات کے گوڑھے رمز شناس۔ جوان پہلوؤں کا بھی درک رکھتے ہیں جہاں تک شاید اس کے اپنے شعور کی رسائی بھی نہ ہو۔ ’’ادھ ادھورے لوک‘‘ کی تلسی، رادھی، سلمیٰ اور اب انواسی کی سنگری اس کا بین ثبوت ہیں۔
ایک عرصہ سے ایک ایسی کتاب کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی جس میں اِسلامی نظام کے جملہ پہلوئوں پر مختصر مگر جامع طور پر روشنی ڈالی گئی ہو اور جو ایک عام آدمی کو ذہنی اور فکری طور پر اِسلام پر مطمئن کر دے۔ چنانچہ اسی مقصد کے پیش نظر مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے مشورہ سے یہ کتاب شائع کی گئی ہے۔ اس میں مولانا محترم کے اُن تمام مضامین اور تقاریر کو یک جا جمع کر دیا گیاہے جو ’’اِسلامی نظامِ زندگی‘‘ کی فکری بنیادوں سے بحث کرتے ہیں۔ یہ کتاب مندرجہ ذیل مباحث پر مشتمل ہے:
Al Ghazali On Conduct In Travel urop ka arooj صاحبوPages: 143 Category: English Book, Islam Al Ghazali on Conduct in Travel is the seventeenth chapter of the Revival of the Religious Sciences (Ihya ulum al din), which is widely regarded as the greatest work of Muslim spirituality. This volume falls in the section dealing with society and the norms of daily life. In it Ghazali explains the reasons for travel in quest for knowledge or one s living, for the sake of worship including performing the
US$ 139.00
US$ 369.50
US$ 17.00
US$ 204.50
US$ 11.00
US$ 28228.50
Sold : Login>>