Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
PLN650.00 PLN673.00

Pay in 4 interest-free payments of $162.50 Learn more

Bermuda Triangle - برمودا ٹرائی اینگل hamed ullah hashmi احمد شاہ ابدالی ایثار، بے

SKU: 1500739318
4.8

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 30 - Sep 4

Description

احمد شاہ ابدالی ایثار، بے لوثی اور قربانی کا پیکر تھا۔ وہ ایک طوفان کی طرح اٹھا، سیلِ رواں کی طرح آیا اور مرہٹہ امپائر کے خوابِ شیریں کو درہم برہم کر کے جہاں سے آیا تھا، وہیں واپس چلا گیا۔ اُس نے ہندوستان کی سرزمین پر ایک فاتح اور کشور کشا کی حیثیت سے قدم رکھا۔ بڑی بڑی طاقتیں اس کے مقابلہ میں سینہ سپر ہوئیں، لیکن بالآخر انھیں سرنگوں ہونا پڑا۔ وہ جب اس دیس میں آیا تو اُس نے سب کی تابِ مقاومت چھین لی۔ سب کو اطاعت پر مجبور کر دیا۔ دلّی کا مغلِ اعظم اس کے دامن میں پناہ لے چکا تھا۔ اودھ کا شجاع الدولہ اس کی یکتائی کا سکہ مان چکا تھا۔ فرخ آباد کے احمد خاں بنگش، بریلی کے حافظ رحمت خاں، نجیب آباد کے نجیب الدولہ کو اس پر فخر تھا کہ وہ ابدالی کے وابستگانِ دامنِ دولت میں شمار ہوتے ہیں۔ مرہٹہ حکومت دم توڑ چکی تھی۔ ہندوستان کے دوسرے ہندو راجہ دست بستہ اور مؤدب اس کے حضور میں حاضر تھے اور اصرار کررہے تھے کہ ہندوستان کی حکومت قبول فرمائیے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہندوستان کے تخت کا مالک اور وارث شاہ عالم بنگالہ کی سرزمین پر اپنی الجھنوں میں گھرا ہوا تھا۔ احمد شاہ ابدالی بڑی آسانی سے سارے ہندوستان کا فرماںروا بن سکتا تھا، لیکن اس نے یہ استدعا ٹھکرا دی۔ یہ موقع کھو دیا۔ یہ جنگ مسلمانانِ ہند کی سربلندی کے لیے وہ لڑا تھا۔ اس مقصد میں کامیاب ہونے کے بعد وہ خاموشی سے اپنے ملک واپس چلا گیا۔اس ناول میں احمد شاہ ابدالی کے بارے میں جتنے واقعات لکھے ہیں، وہ تقریباً سب کے سب صحیح اور مستند ہیں۔ احمد شاہ ابدالی کی اگر میں تاریخ لکھتا تو بھی مجھے اتنی ہی محنت کرنی پڑتی اور اتنی ہی کتابوں کا مطالعہ کرنا پڑتا جتنا اِس ناول کے سلسلہ میں کرنا پڑا۔ اس کے پڑھنے سے مسلمانوں کو معلوم ہو گاکہ وہ کیا تھے اور پڑھنے کے بعد محسوس کریں گے کہ وہ کیا ہیں؟ اگر یہ مقصد پورا ہو گیا تو میں سمجھوں گا میں نے اپنا کام کر لیا۔

عامر ہاشم خاکوانی کے کالم کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو میرے ذہن میں ایک ہی لفظ آتا ہے اور وہ ہے ریشنل(Rational)۔ کئی بار ایسا ہوا کہ میں نے اس کے کالم کا عنوان دیکھا اور سوچا کہ اس پر وہ کیا لکھے گا مگر کالم پڑھ کر احساس ہوا کہ جو کچھ اس نے لکھا، اس کی ضرورت تھی

جارج آرول نے یہ ناول 1949ء میں لکھا تھا۔ اس اکہتر برس کے عرصے میں اس ناول کی کئی لاکھ جلدیں صرف انگریزی میں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس کا ترجمہ دُنیا کی پچاس سے زیادہ زبانوں میں ہو چکا ہے۔

حسن منظر کو دیکھنے دکھانے کا فن خوب آتا ہے۔ اس کا افسانہ بصارت اور بصیرت کی آمیزش سے پیدا ہوتا ہے۔ بصارت زندگی کے حسن و قبح کو کیمرے کی سچائی کے ساتھ دیکھتی ہے اور بصیرت ایکسرے کے تجزیاتی عمل سے اس کی تصدیق کرتی ہے۔ انسانی فطرت اور نفسیات کا کوئی پہلو اس کی آنکھ سے اوجھل نہیں ہوتا۔ اس کے افسانے ایک ایسے سیلانی کے سفر کی روداد سناتے ہیں جو اپنی فکر کا چراغ لے کر اس انسان کی تلاش میں نکلا ہے جو زندہ ہو اور دوسروں کے زندہ رہنے کے حق کو تسلیم کرتا ہو۔ اس نے دُنیا کی خاک چھانی ہے اور ملک ملک کی خاک سے سونے کے ذرّے جمع کیے ہیں۔ یہی سنہری ذرّے اس کے افسانوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ اُردو افسانے میں حسن منظر کی آواز مانوس اور جاندار ہونے کے ساتھ ساتھ نئی بھی ہے اور منفرد بھی۔ اس کے افسانے بیدار ی کے خواب ہیں جو آپ اپنی تعبیر ہوتے ہیں۔

بغیراجازت)

Bermuda Triangle - برمودا ٹرائی اینگل hamed ullah hashmi احمد شاہ ابدالی ایثار، بےPages: 319 Category: Novels

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products