Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD1550.00 USD1600.00

Pay in 4 interest-free payments of $387.50 Learn more

Urdu Adab Ki Mukhtasar Tareen Tarikh Agaz Se 2010 tak - اردو ادب کی مختصر تاریخ Main Pehlay Janum Main Raat Thi ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی نے

SKU: 11610461950
4.2

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 2 - Sep 7

Description

ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی نے اپنے تدریسی کیریئر کا آغاز 1971 میں کراچی یونیورسٹی سے کیا۔ وہ 1977 میں میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) سے پی ایچ ڈی کے بعد قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں صدر شعبہ بین الاقوامی امور اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آبادمیں بطور ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اُنہوں نے 1980 میں ادارہ رائے عامہ پاکستان کے قیام سے ملک میں رائے عامہ کی سائنس اور گیلپ سروے کی بنیاد ڈالی۔ آج کل وہ گیلپ پاکستان اور گیلانی ریسرچ فاؤنڈیشن کے اعزازی چیئرمین ہیں۔

باری علیگ کے قلم نے اس وقت شعور کی آنکھ کھولی جب برصغیر میں فرنگی اقتدار اپنے عروج پر تھا۔ بڑے بڑے بہادر حق بات کہنے سے کتراتے تھے۔ فرنگی کے خلاف لب کشائی ایک سنگین جرم تھا۔ سیاست و معیشت پر فرنگی کے پروردہ اور نسلوں سے انگریز کے وفادار چلے آنے والے انسانوں کا تسلط تھا۔ ایسے دور میں باری علیگ نے جو دیکھا اور جو محسوس کیا بے خوف نوکِ قلم پرلے آئے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ غلامی نے افرادِ قوم کے اذہان پر صدیوں سے محکومی کی گرد کی تہیں جما دی ہیں، کارواں لُٹ گیا ہے، کسی کو احساسِ زیاں بھی نہیں، کشتی ڈگمگا رہی ہے اور کوئی نا خدا بھی نہیں۔ باری نے یہ چیز شدّت سے محسوس کی کہ پورے ملک کی فضا پر سکوت طاری ہے۔ صحیح سمت میں کوئی مؤثر تحریک تو کیا عام لوگوں کے ذہنوں سے سوچ کی کوئی لہر بھی انگریز کے خلاف نہیں اٹھ رہی۔ باری علیگ نے اسی احساس کے تحت قلم سے جہاد شروع کیا۔ ’’کمپنی کی حکومت‘‘ کے نام سے کتاب تصنیف کی تو انھیں باغی قرار دے دیا گیا۔ حکمرانوں کے عتاب کا نشانہ بنے مگر ان کے پایۂ استقلال میں لغزش نہ آئی۔ باری نے علمی ادبی محفلوں میں اخبارات اور اپنی تصانیف میں ہر جگہ اور ہر انداز سے جہاں غیر ملکی حکمرانوں کا پردہ چاک کیا، وہاں اس بے ضمیر اور خودغرض ٹولے کی سازشوں اور گھٹیا حرکتوں کو بے نقاب کیا جو ہر دور میں حاکموں کی چوکھٹ پر اپنا سرر گڑ تا ہے۔ انھیں وطن کی لوٹ کھسوٹ اور عام لوگوں کی معاشی بدحالی بُری طرح کھٹکتی تھی۔ باری نے عوام کو شعور بخشنے اور صحیح راہ پر چلانے کے لئے جذباتی نعروں کی راہ اختیار نہیں کی بلکہ علمی و منطقی طریقہ اختیار کیا۔ سائنسی انداز تحقیق کا سہارا لیا۔ بقول ڈاکٹر عبدالسلام خورشید، ’’وہ ادیب تھا اور ادب ہی کو سیاسی بیداری کا ذریعہ بتاتا تھا۔‘‘

your own unique view of the world

Category: Short stories

ع دیں ہم اندر عاشقی بالائے غمہائے دگراس سمارٹ سے مجموعے میں 13 افسانے شامل ہیں۔ یہاں فرداً فرداً افسانوں کا تجزیہ یا جائزہ لینا مشکل ہے، ماسوائے اس کے کہ مصنف کے مشاہدے کی صورتحال کیا ہے اور اس میں بیان کرنے کی طاقت اور صلاحیت کس حد تک ہے۔ علی اکبر ناطق کو جہاں زبان پر خاصا عبور حاصل ہے وہاں ان کا طرزِ بیان بھی عام فہم اور دلکش ہے اور قاری آخر تک افسانے کی گرفت میں رہتا ہے، اور یہ خوشی کی بات ہے کہ کہانی تجرید کی بھول بھلیوں سے نکل آئی ہے اور اس میں کہانی پن عود کر آیا ہے اور قاری افسانے سے باقاعدہ لطف اندوز ہونے لگا ہے بشرطیکہ یہ پھر اسی طرف واپس چلی جائے۔ علی اکبر ناطق نے جس مختصر عرصے میں اپنی پہچان قائم کی ہے اور بڑے بڑوں سے اپنا اعتراف کروایا ہے وہ خوش آئند بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔ پاکستان میں شاعری کے حوالے سے معاملات اوپر نیچے رہتے ہیں اور اپنے پائوں پر بھی کھڑے ہوتے نظر آتے ہیں، تاہم ایسا لگتا ہے کہ ز یادہ تر منظر فکشن نے سنبھال رکھا ہے اور اس کتاب کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس سعیٔ مسعود پر میں اس نوجوان کو مبارکباد پیش کرنے میں کوتاہی نہیں کرنا چاہتا

Urdu Adab Ki Mukhtasar Tareen Tarikh Agaz Se 2010 tak - اردو ادب کی مختصر تاریخ Main Pehlay Janum Main Raat Thi ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی نےPages: 720 Category: Urdu adab

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products